جرمن چانسلر اینجلا میرکل نے کہا ہے کہ جرمنی میں ہر ایک کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ خود کو محفوظ محسوس کرے۔ ان کا یہ بیان حالیہ شدت پسندانہ حملوں کے بعد نسل پرستی سے نمٹنے کے لیے کابینہ کے اراکین اور تارکین وطن کے گروپوں کے رہنماؤں سے ملاقات کے موقع پر سامنے آیا ۔
انجیلا میرکل نے پیر کے روز بات کرتے ہوئے کہا کہ نسل پرستی، اسلامو فوبیا اور سامیت مخالفت کے خلاف جرمنی کی کوششیں حکومت کے لیے ‘انتہائی اہم معاملات‘ ہیں۔ ۔ حالیہ شدت پسندانہ حملوں کے تناظر میں ہونے والی اس ملاقات کا مقصد شہریوں کو دائیں بازو کی شدت پسندی سے محفوظ رکھنے کے طریقوں پر غور کرنا تھا۔
جرمن چانسلر کے مطابق ان کی حکومت گذششتہ برس جرمن شہر ہالے میں ایک شخص کے یہودیوں کی عبادت گاہ پرمسلح حملے کے بعد سےشدت پسندی سے نمٹنے کے لیے اقدامات کر چکی ہے ۔انھوں نے مزید کہا کہ جرمنی میں ہر شخص کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ اپنے رنگ یا مذہب سے قطع نظر خود کو محفوظ سمجھیں
واضح رہے کہ جرمن وزیر داخلہ ہورسٹ زیہوفر نے ہفتہ 29 فروری کو ‘اسلامو فوبیا کے معاملے پر ماہرین کا ایک خودمختار گروپ‘ تشکیل دینے کا اعلان کیا تھا جو اس وقت موجود وزارتی پینلز کی طرز پر ہوگا جو سامیت مخالفت یا یورپی خانہ بدوش اقوام کی مخالفت سے نمٹنے کے لیے قائم ہیں۔
