Shadow
سرخیاں
بحرانی صورتحال: مغربی رہنما اپنے عوام سے مزید قربانیاں طلب کر رہے ہیں۔ایران جنگ ‘امریکی سلطنت کا خاتمہ’ ہے – ٹکر کارلسنبرطانوی شاہی بحریہ میں نشے اور جنسی زیادتیوں کے واقعات کا انکشاف، ترجمان کا تبصرے سے انکار، تحقیقات کی یقین دہانیتیونسی شہری رضا بن صالح الیزیدی کسی مقدمے کے بغیر 24 برس بعد گوانتانوموبے جیل سے آزادمغربی طرز کی ترقی اور لبرل نظریے نے دنیا کو افراتفری، جنگوں اور بےامنی کے سوا کچھ نہیں دیا، رواں سال دنیا سے اس نظریے کا خاتمہ ہو جائے گا: ہنگری وزیراعظمامریکی جامعات میں صیہونی مظالم کے خلاف مظاہروں میں تیزی، سینکڑوں طلبہ، طالبات و پروفیسران جیل میں بندپولینڈ: یوکرینی گندم کی درآمد پر کسانوں کا احتجاج، سرحد بند کر دیخود کشی کے لیے آن لائن سہولت، بین الاقوامی نیٹ ورک ملوث، صرف برطانیہ میں 130 افراد کی موت، چشم کشا انکشافاتپوپ فرانسس کی یک صنف سماج کے نظریہ پر سخت تنقید، دور جدید کا بدترین نظریہ قرار دے دیاصدر ایردوعان کا اقوام متحدہ جنرل اسمبلی میں رنگ برنگے بینروں پر اعتراض، ہم جنس پرستی سے مشابہہ قرار دے دیا، معاملہ سیکرٹری جنرل کے سامنے اٹھانے کا عندیا

کورونا وائرس کی ویکسین صرف امریکہ کے لیے: ٹرمپ ناممکن :جرمنی

جرمنی کی ایک فارماسیوٹیکل کمپنی نے کرونا وائرس کی ویکسین کی تیاری کا دعویٰ کر دیا ہے تاہم کپمنی نے اپنی ٹیکنا لوجی کسی بھی ملک کو فروخت کرنے کی تردید کی ہے۔

جرمنی کے ہفتہ وار اخبار ‘ویلٹ ام زونٹاگ‘ کے مطابق جرمنی کی دوا ساز کمپنی  ‘کیور ویک نے کورونا وائرس سے نمٹنے کے لیے ایک  ویکسین تیار کرنے کا دعویٰ کیا ہے جس کے بعد جرمن حکومت اور امریکہ کے درمیان رسہ کشی چل رہی ہے۔

اخبار کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اس ویکسین پر کام کرنے والے جرمن سائنسدانوں کو اس ویکسین کے حصول کے لیے بڑی رقومات دینے کی پیشکش کر رہے تھے اور اس کے بدلے میں وہ اس دوا کے خصوصی حقوق حاصل کرنا چاہتے تھے۔لیکن کمپنی نے اس سے متعلق ایک پریس ریلیز میں ممکنہ طور پر کمپنی یا اس کی ٹیکنالوجی کی فروخت کے دعووں  کو مسترد کر دیا۔

کمپنی نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ ”کیور ویک ایم آر این اے پر مبنی ایک ایسا ٹیکہ بنانے پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہے جو پوری دنیا کے لوگوں کو کورونا وائرس سے محفوظ رکھ سکے۔ ہم قیاس آرائیوں پر  تبصرہ  نہیں کرنا چاہتے اور ان الزامات کو مسترد کرتے ہیں جس میں ہماری کپمنی یا ٹیکنا لوجی کو حاصل کرنے کی پیشکش کی بات کی گئی ہے۔

اخبار نے اس سلسلے میں جرمن حکومت کے ایک ذریعے کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا کہ صدر ٹرمپ نے امریکہ کے لیے ایک ٹیکہ حاصل کرنے کی اپنی تمام کوششیں کیں، ”لیکن صرف امریکہ کے لیے۔‘‘ لیکن کمپنی  کے سربراہ کرسٹوف ہیٹچ کا کہنا تھا کہ اس سلسلے میں امریکہ کے ساتھ خصوصی معاہدے کا سوال ہی نہیں پیدا ہوتا۔ انہوں نے اخبار من ہامرمورگین کو بتایا،

”ہم پوری دنیا کے لیے ایک ویکسین تیار کرنا چاہتے ہیں کسی ایک ملک کے لیے نہیں۔‘‘

دوست و احباب کو تجویز کریں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

12 − 1 =

Contact Us