Shadow
سرخیاں
مغربی طرز کی ترقی اور لبرل نظریے نے دنیا کو افراتفری، جنگوں اور بےامنی کے سوا کچھ نہیں دیا، رواں سال دنیا سے اس نظریے کا خاتمہ ہو جائے گا: ہنگری وزیراعظمامریکی جامعات میں صیہونی مظالم کے خلاف مظاہروں میں تیزی، سینکڑوں طلبہ، طالبات و پروفیسران جیل میں بندپولینڈ: یوکرینی گندم کی درآمد پر کسانوں کا احتجاج، سرحد بند کر دیخود کشی کے لیے آن لائن سہولت، بین الاقوامی نیٹ ورک ملوث، صرف برطانیہ میں 130 افراد کی موت، چشم کشا انکشافاتپوپ فرانسس کی یک صنف سماج کے نظریہ پر سخت تنقید، دور جدید کا بدترین نظریہ قرار دے دیاصدر ایردوعان کا اقوام متحدہ جنرل اسمبلی میں رنگ برنگے بینروں پر اعتراض، ہم جنس پرستی سے مشابہہ قرار دے دیا، معاملہ سیکرٹری جنرل کے سامنے اٹھانے کا عندیامغرب روس کو شکست دینے کے خبط میں مبتلا ہے، یہ ان کے خود کے لیے بھی خطرناک ہے: جنرل اسمبلی اجلاس میں سرگئی لاوروو کا خطاباروناچل پردیش: 3 کھلاڑی چین اور ہندوستان کے مابین متنازعہ علاقے کی سیاست کا نشانہ بن گئے، ایشیائی کھیلوں کے مقابلے میں شامل نہ ہو سکےایشیا میں امن و استحکام کے لیے چین کا ایک اور بڑا قدم: شام کے ساتھ تذویراتی تعلقات کا اعلانامریکی تاریخ کی سب سے بڑی خفیہ و حساس دستاویزات کی چوری: انوکھے طریقے پر ادارے سر پکڑ کر بیٹھ گئے

کورونا: فرانس اور جرمنی نے دوبارہ ایک ماہ کے لیے تالہ بندی کا اعلان کر دیا

فرانس نے کووڈ19 کے مریضوں کی بڑھتی صورتحال پر دوبارہ ملک بھر میں تالہ بندی کا اعلان کر دیا ہے۔ فرانسیسی صدر ایمینیول میکرون نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ ہمیں وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے دوبارہ تالہ بندی کے لیے جانا پڑے گا۔

فی الحال تالہ بندی کا فیصلہ یکم دسمبر تک کیا گیا ہے تاہم اسے بڑھایا بھی جا سکتا ہے۔ واضح رہے کہ بروز منگل فرانس میں یومیہ 523 اموات ریکارڈ کی گئیں، جبکہ یورپی ملک میں اب تک مجموعی طور پر 35000 افراد کی اموات ہو چکی ہیں۔ اور متاثرہ افراد کی تعداد 12 لاکھ سے بڑھ چکی ہے۔

دوسری طرف جرمنی نے بھی خطے میں خطرے کو بھانپتے ہوئے سوموار سے تالہ بندی کا اعلان کر دیا ہے، جرمنی بھی ایک ماہ کے لیے تمام سماجی و معاشی سرگرمیوں کو بند رکھے گا۔

جرمن چانسلر انجیلا میرکل نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ اگرچہ ہمارا نظام صحت اب تک صورتحال کو سنبھالے ہوئے ہے تاہم تیزی سے بگڑتی صوتحال کے پیش نظر ہم ایک ماہ کے لیے تالہ بندی کر رہے ہیں۔ واضح رہے کہ جرمنی مغربی یورپ کے کم ترین متاثرہ ممالک میں سے ہے، جس کی بظاہر وجہ عوام کا حکومت پر اعتماد اور حکومت کا شہریوں خصوصاً چھوٹے کاروبار والوں کو انکے ماہانہ منافعے کا 70 فیصد دینے کی پالیسی ہے۔ جو اب بھی برقرارہے گی۔ جرمنی میں اب تک پونے پانچ لاکھ افراد متاثرہ ہیں اور 10 ہزار 1 سو سے زائد اموات ہوئی ہیں۔

دوست و احباب کو تجویز کریں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

four × one =

Contact Us