اتوار, جنوری 16 Live
Shadow
سرخیاں
قازقستان ہنگامے: مشترکہ تحفظ تنظیم کے سربراہ کا صورتحال پر قابو کا اعلان، امن منصوبے کی تفصیلات پیش کر دیںبرطانوی پارلیمنٹ میں منشیات کا استعمال: اسپیکر کا سونگھنے والے کتے بھرتی کرنے کا عندیاامریکی سی آئی اے اہلکاروں کے ایک بار پھر کم عمر بچوں بچیوں کے ساتھ جنسی جرائم میں ملوث ہونے کا انکشافامریکہ کا مشرقی افریقہ میں تاریخ کے سب سے بڑے فوجی آپریشن کا اعلان: 1 ہزار سے زائد مزید کمانڈو تیارروسی صدر کی ثالثی: آزربائیجان اور آرمینیا کے مابین سرحدی جھڑپیں ختم، سرحدی حدود کے تعین پر اتفاق، جنگ سے متاثر آبادی اور دیگر انسانی حقوق کے تحفظ کی بھی یقین دہانینائیجیر: فرانسیسی فوج کی فائرنگ سے 2 شہری شہید، 16 زخمیامریکی فوج میں ہر 4 میں سے 1 عورت اور 5 میں سے 1 مرد جنسی زیادتی کا نشانہ بنتا ہے، بیشتر خود کشی کر لیتے، کورٹ مارشل کے خوف سے کوئی آواز نہیں اٹھاتا: سابقہ اہلکارروس کا غیر ملکی سماجی میڈیا کمپنیوں پر ملک میں کاروباری اندراج کے لیے دباؤ جاری: رواں سال کے آخر تک عمل نہ ہونے پر پابندی لگانے کا عندیاامریکہ ہائپر سونک ٹیکنالوجی میں چین اور روس سے بہت پیچھے ہے: امریکی جنرل تھامپسنامریکی تفریحی میڈیا صنعت کس عقیدے، نظریے اور مقصد کے تحت کام کرتی ہے؟

کورونا: فرانس اور جرمنی نے دوبارہ ایک ماہ کے لیے تالہ بندی کا اعلان کر دیا

فرانس نے کووڈ19 کے مریضوں کی بڑھتی صورتحال پر دوبارہ ملک بھر میں تالہ بندی کا اعلان کر دیا ہے۔ فرانسیسی صدر ایمینیول میکرون نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ ہمیں وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے دوبارہ تالہ بندی کے لیے جانا پڑے گا۔

فی الحال تالہ بندی کا فیصلہ یکم دسمبر تک کیا گیا ہے تاہم اسے بڑھایا بھی جا سکتا ہے۔ واضح رہے کہ بروز منگل فرانس میں یومیہ 523 اموات ریکارڈ کی گئیں، جبکہ یورپی ملک میں اب تک مجموعی طور پر 35000 افراد کی اموات ہو چکی ہیں۔ اور متاثرہ افراد کی تعداد 12 لاکھ سے بڑھ چکی ہے۔

دوسری طرف جرمنی نے بھی خطے میں خطرے کو بھانپتے ہوئے سوموار سے تالہ بندی کا اعلان کر دیا ہے، جرمنی بھی ایک ماہ کے لیے تمام سماجی و معاشی سرگرمیوں کو بند رکھے گا۔

جرمن چانسلر انجیلا میرکل نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ اگرچہ ہمارا نظام صحت اب تک صورتحال کو سنبھالے ہوئے ہے تاہم تیزی سے بگڑتی صوتحال کے پیش نظر ہم ایک ماہ کے لیے تالہ بندی کر رہے ہیں۔ واضح رہے کہ جرمنی مغربی یورپ کے کم ترین متاثرہ ممالک میں سے ہے، جس کی بظاہر وجہ عوام کا حکومت پر اعتماد اور حکومت کا شہریوں خصوصاً چھوٹے کاروبار والوں کو انکے ماہانہ منافعے کا 70 فیصد دینے کی پالیسی ہے۔ جو اب بھی برقرارہے گی۔ جرمنی میں اب تک پونے پانچ لاکھ افراد متاثرہ ہیں اور 10 ہزار 1 سو سے زائد اموات ہوئی ہیں۔

دوست و احباب کو تجویز کریں

تبصرہ کریں

Contact Us