Shadow
سرخیاں
مغربی طرز کی ترقی اور لبرل نظریے نے دنیا کو افراتفری، جنگوں اور بےامنی کے سوا کچھ نہیں دیا، رواں سال دنیا سے اس نظریے کا خاتمہ ہو جائے گا: ہنگری وزیراعظمامریکی جامعات میں صیہونی مظالم کے خلاف مظاہروں میں تیزی، سینکڑوں طلبہ، طالبات و پروفیسران جیل میں بندپولینڈ: یوکرینی گندم کی درآمد پر کسانوں کا احتجاج، سرحد بند کر دیخود کشی کے لیے آن لائن سہولت، بین الاقوامی نیٹ ورک ملوث، صرف برطانیہ میں 130 افراد کی موت، چشم کشا انکشافاتپوپ فرانسس کی یک صنف سماج کے نظریہ پر سخت تنقید، دور جدید کا بدترین نظریہ قرار دے دیاصدر ایردوعان کا اقوام متحدہ جنرل اسمبلی میں رنگ برنگے بینروں پر اعتراض، ہم جنس پرستی سے مشابہہ قرار دے دیا، معاملہ سیکرٹری جنرل کے سامنے اٹھانے کا عندیامغرب روس کو شکست دینے کے خبط میں مبتلا ہے، یہ ان کے خود کے لیے بھی خطرناک ہے: جنرل اسمبلی اجلاس میں سرگئی لاوروو کا خطاباروناچل پردیش: 3 کھلاڑی چین اور ہندوستان کے مابین متنازعہ علاقے کی سیاست کا نشانہ بن گئے، ایشیائی کھیلوں کے مقابلے میں شامل نہ ہو سکےایشیا میں امن و استحکام کے لیے چین کا ایک اور بڑا قدم: شام کے ساتھ تذویراتی تعلقات کا اعلانامریکی تاریخ کی سب سے بڑی خفیہ و حساس دستاویزات کی چوری: انوکھے طریقے پر ادارے سر پکڑ کر بیٹھ گئے

شیل کو نائیجیریا کے آبی وسائل آلودہ کرنے پر ہرجانہ ادا کرنا ہی ہو گا: مقامی عدالت عالیہ کا حکم

نائیجیریا کی عدالت عالیہ نے شیل کمپنی کی 467 ملین ڈالر ہرجانے کی سزا ختم کرنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے پہلے فیصلے کو برقرار رکھنے کا فیصلہ سنا دیا ہے۔

یاد رہے کہ 50 سال قبل ایجاما ایبوبو نامی دریائی شہر میں شیل کے بحری ٹینکر سے تیل کے بہاؤ کے باعث مقامی آبادی کو شدید نقصان پہنچا تھا، جس کے خلاف ہرجانے کی درخواست دی گئی پر نصف صدی گزر جانے کے باوجود مقامی آبادی کو کسی قسم کا ہرجانہ ادا نہیں ہوا اور نہ ہی علاقے کی بہبود کے لیے کچھ کیا گیا۔

سن 1970 میں ہونے والے حادثے کے خلاف مقامی آبادی نے درخواست دی کہ شیل کے تیل ٹینکر لیک کے باعث انکا علاقہ آلودہ ہو گیا ہے اور پانی استعمال کے قابل نہیں رہا، تاہم کمپنی کا مؤقف ہے کہ اس نے علاقے کی صفائی کروا دی تھی، اور اب وہ ہرجانہ ادا کرنے کی روادار نہیں ہے، لیکن عدالت نے ماحولیاتی رپورٹوں پر انحصار کرتے ہوئے کمپنی کے مؤقف کو مسترد کرتے ہوئے کمپنی کو 46 کروڑ ستر لاکھ ڈالر کا ہرجانہ ادا کرنے کا حکم دیا، جس پر عدالتی کاروائیوں کا سلسلہ تاحال جاری ہے۔

کمپنی نے نائیجیریا کی سپریم کورٹ کے تازہ حکم پر اپنے ردعمل میں کہا ہے کہ انہیں افسوس ہے کہ قانونی چارہ جوئی میں اتنا عرصہ لگا لیکن فیصلہ درست نہیں، اور انہیں معاملے پر دیگر عدالتوں میں جاری مقدموں کا فیصلہ آنے تک ادائیگی پر مجبور نہیں کیا جا سکتا، کمپنی کا کہنا ہے کہ وہ مقدمے کے خلاف اپنا دفاع کرنے کا پورا حق رکھتے ہیں۔

یاد رہے کہ شیل اس سے قبل بھی نائیجیریا کے آبی راستوں میں متعدد تیل رسائی کے واقعات پر عالمی عدالتوں کا سامنا کر چکی ہے، تاہم ان میں سے اکثر میں عدالتوں نے شیل کو تحفظ فراہم کیا۔

دوست و احباب کو تجویز کریں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

5 × 2 =

Contact Us