Shadow
سرخیاں
بحرانی صورتحال: مغربی رہنما اپنے عوام سے مزید قربانیاں طلب کر رہے ہیں۔ایران جنگ ‘امریکی سلطنت کا خاتمہ’ ہے – ٹکر کارلسنبرطانوی شاہی بحریہ میں نشے اور جنسی زیادتیوں کے واقعات کا انکشاف، ترجمان کا تبصرے سے انکار، تحقیقات کی یقین دہانیتیونسی شہری رضا بن صالح الیزیدی کسی مقدمے کے بغیر 24 برس بعد گوانتانوموبے جیل سے آزادمغربی طرز کی ترقی اور لبرل نظریے نے دنیا کو افراتفری، جنگوں اور بےامنی کے سوا کچھ نہیں دیا، رواں سال دنیا سے اس نظریے کا خاتمہ ہو جائے گا: ہنگری وزیراعظمامریکی جامعات میں صیہونی مظالم کے خلاف مظاہروں میں تیزی، سینکڑوں طلبہ، طالبات و پروفیسران جیل میں بندپولینڈ: یوکرینی گندم کی درآمد پر کسانوں کا احتجاج، سرحد بند کر دیخود کشی کے لیے آن لائن سہولت، بین الاقوامی نیٹ ورک ملوث، صرف برطانیہ میں 130 افراد کی موت، چشم کشا انکشافاتپوپ فرانسس کی یک صنف سماج کے نظریہ پر سخت تنقید، دور جدید کا بدترین نظریہ قرار دے دیاصدر ایردوعان کا اقوام متحدہ جنرل اسمبلی میں رنگ برنگے بینروں پر اعتراض، ہم جنس پرستی سے مشابہہ قرار دے دیا، معاملہ سیکرٹری جنرل کے سامنے اٹھانے کا عندیا

مصنوعی ذہانت کے حقیقی خطرات کیا ہیں؟

مصنوعی ذہانت کے شعبے میں مغربی تہذیبی اقدار کے بڑھتے اثر اور اس کے نتیجے میں ہونے والی خاص عسکری بڑھوتری کے باعث انسانی تہذیب کو خطرے میں مانا جا رہا ہے۔ خود مغربی سکالر شعبے میں ترقی کی حدود کو طے کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، اور خاص حد سے بڑھنے کی صورت میں شدید تحفظات کا اظہار کرتے رہتے ہیں۔

ایسے میں سائبر سکیورٹی کے ماہر مورگان رائٹ نے رشیا ٹوڈے سے گفتگو میں شعبے کے مستقبل پر گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ مصنوعی ذہانت کے شعبے میں برتری اس وقت دنیا کی سب سے بڑی جنگ ہے، ممالک شعبے میں کم ازکم دشمنوں کی نسبت برتری چاہتے ہیں۔

گفتگو میں مورگان کا کہنا تھا کہ شعبے میں کام کو اس وقت دو حصوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے، ایک عمومی مصنوعی ذہانت اور دوسرا محدود مصنوعی ذہانت۔ مصنوعی ذہانت میں بنیادی طور پر مشین کو سوچنے اور دی گئی تربیت یا ہدایت کے مطابق کام کرنے کے قابل بنایا جاتا ہے، مشینیں اسی تربیت کی بنیاد پر خود کار فیصلے لیتی ہیں اور انسانی ذہانت کی طرز پر کام کرتی ہیں۔

آئی ٹی ماہر کا مزید کہنا تھا کہ حکومتیں مشینوں کی اسی صلاحیت کی وجہ سے بہت طاقتور ہو جائیں گی۔ وہ ہر چیز پر نظر رکھ سکیں گی، پھر چاہے وہ عسکری مقصد کے لیے ہو یا عوامی مقصد کے لیے، ہر شعبہ زندگی ہر وقت حکومتی گروہ کے کنٹرول میں ہو گا۔ اور اگر حکومت کسی بدعنوان اور متعصب گروہ کے ہاتھوں میں ہو گی تو یہ انتہائی خطرناک صورتحال ہو گی۔

دوست و احباب کو تجویز کریں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

twelve − 3 =

Contact Us