Shadow
سرخیاں
بحرانی صورتحال: مغربی رہنما اپنے عوام سے مزید قربانیاں طلب کر رہے ہیں۔ایران جنگ ‘امریکی سلطنت کا خاتمہ’ ہے – ٹکر کارلسنبرطانوی شاہی بحریہ میں نشے اور جنسی زیادتیوں کے واقعات کا انکشاف، ترجمان کا تبصرے سے انکار، تحقیقات کی یقین دہانیتیونسی شہری رضا بن صالح الیزیدی کسی مقدمے کے بغیر 24 برس بعد گوانتانوموبے جیل سے آزادمغربی طرز کی ترقی اور لبرل نظریے نے دنیا کو افراتفری، جنگوں اور بےامنی کے سوا کچھ نہیں دیا، رواں سال دنیا سے اس نظریے کا خاتمہ ہو جائے گا: ہنگری وزیراعظمامریکی جامعات میں صیہونی مظالم کے خلاف مظاہروں میں تیزی، سینکڑوں طلبہ، طالبات و پروفیسران جیل میں بندپولینڈ: یوکرینی گندم کی درآمد پر کسانوں کا احتجاج، سرحد بند کر دیخود کشی کے لیے آن لائن سہولت، بین الاقوامی نیٹ ورک ملوث، صرف برطانیہ میں 130 افراد کی موت، چشم کشا انکشافاتپوپ فرانسس کی یک صنف سماج کے نظریہ پر سخت تنقید، دور جدید کا بدترین نظریہ قرار دے دیاصدر ایردوعان کا اقوام متحدہ جنرل اسمبلی میں رنگ برنگے بینروں پر اعتراض، ہم جنس پرستی سے مشابہہ قرار دے دیا، معاملہ سیکرٹری جنرل کے سامنے اٹھانے کا عندیا

برطانوی اسکول میں بھی استاد نے کلاس کے دوران محمدﷺ کے کارٹون دکھا دیے: مقامی مسلم آبادی سراپا احتجاج، ہیڈماسٹر کی معافی بھی مسترد، استاد کو نوکری سے نکالنے کا مطالبہ

برطانیہ میں اسکول کے استاد کی جانب سے کلاس کے دوران پیغمبر محمدﷺ کے کارٹون دکھانے پر درجنوں مسلمان شہری احتجاج کر رہے ہیں۔ واقع مغربی یارک شائر کے بیٹلی گرامر اسکول میں پیش آیا جہاں بروز پیر دینیات کے درس کے دوران استاد نے بچوں کو فرانسیسی میگزین چارلی ہیبڈو کے شائع کردہ محمدﷺ کے کارٹون دکھائے۔ جس پر بچوں کے والدین اور مقامی مسلمانوں نے اسکول کے سامنے مظاہرہ کیا۔

واقع کو رفع دفع کرنے کے لیے اسکول کے ہیڈماسٹر نے والدین سے بلامشروط معافی مانگی تاہم والدین نے گستاخ استاد کے ملازمت سے نکالے جانے تک معافی قبول کرنے سے انکار کر دیا۔ والدین کا کہنا ہے کہ استاد اس سے پہلے بھی گستاخی کر چکا ہے، اسے مزید موقع نہیں دیا جا سکتا۔

مقامی مسجد کے امام نے ہیدماسٹر سے بات کی ہے اور اطلاعات کے مطابق انہیں استاد کے خلاف کارروائی کی یقین دہانی کروائی گئی ہے۔

اس کے علاوہ یارک شائر میں مقیم مسلمان سماجی میڈیا پر بھی استاد کے خلاف مہم چلا رہے ہیں اور واقع اب سماجی مسئلے کا رخ اختیار کر گیا ہے۔ مقامی مسلمانوں کے علاوہ کچھ غیرمسلم شہری بھی مذہب کی توہین یا انفرادی جذبات کی ہتک پر استاد کو قصور وار قرار دے رہے ہیں جبکہ دوسری طرف مقامی آبادی کا بڑا حصہ مظاہرے کو شریعت سے جوڑ کر اسلاموفوبیا پھیلانے کی کوشش کر رہا ہے۔

انتظامیہ نے علاقے میں پولیس تعینات کر دی ہے۔

واضح رہے کہ یارک شائرمیں مسلمانوں کی بڑی تعداد مقیم ہے، 2011 کی مردم شماری کے مطابق بیٹلے کی 80 ہزار کی آبادی میں 15ہزار مسلمان ہیں۔

دوست و احباب کو تجویز کریں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

four × one =

Contact Us