برطانیہ میں اسکول کے استاد کی جانب سے کلاس کے دوران پیغمبر محمدﷺ کے کارٹون دکھانے پر درجنوں مسلمان شہری احتجاج کر رہے ہیں۔ واقع مغربی یارک شائر کے بیٹلی گرامر اسکول میں پیش آیا جہاں بروز پیر دینیات کے درس کے دوران استاد نے بچوں کو فرانسیسی میگزین چارلی ہیبڈو کے شائع کردہ محمدﷺ کے کارٹون دکھائے۔ جس پر بچوں کے والدین اور مقامی مسلمانوں نے اسکول کے سامنے مظاہرہ کیا۔
واقع کو رفع دفع کرنے کے لیے اسکول کے ہیڈماسٹر نے والدین سے بلامشروط معافی مانگی تاہم والدین نے گستاخ استاد کے ملازمت سے نکالے جانے تک معافی قبول کرنے سے انکار کر دیا۔ والدین کا کہنا ہے کہ استاد اس سے پہلے بھی گستاخی کر چکا ہے، اسے مزید موقع نہیں دیا جا سکتا۔
مقامی مسجد کے امام نے ہیدماسٹر سے بات کی ہے اور اطلاعات کے مطابق انہیں استاد کے خلاف کارروائی کی یقین دہانی کروائی گئی ہے۔
اس کے علاوہ یارک شائر میں مقیم مسلمان سماجی میڈیا پر بھی استاد کے خلاف مہم چلا رہے ہیں اور واقع اب سماجی مسئلے کا رخ اختیار کر گیا ہے۔ مقامی مسلمانوں کے علاوہ کچھ غیرمسلم شہری بھی مذہب کی توہین یا انفرادی جذبات کی ہتک پر استاد کو قصور وار قرار دے رہے ہیں جبکہ دوسری طرف مقامی آبادی کا بڑا حصہ مظاہرے کو شریعت سے جوڑ کر اسلاموفوبیا پھیلانے کی کوشش کر رہا ہے۔
انتظامیہ نے علاقے میں پولیس تعینات کر دی ہے۔
واضح رہے کہ یارک شائرمیں مسلمانوں کی بڑی تعداد مقیم ہے، 2011 کی مردم شماری کے مطابق بیٹلے کی 80 ہزار کی آبادی میں 15ہزار مسلمان ہیں۔
