ہفتہ, جنوری 15 Live
Shadow
سرخیاں
قازقستان ہنگامے: مشترکہ تحفظ تنظیم کے سربراہ کا صورتحال پر قابو کا اعلان، امن منصوبے کی تفصیلات پیش کر دیںبرطانوی پارلیمنٹ میں منشیات کا استعمال: اسپیکر کا سونگھنے والے کتے بھرتی کرنے کا عندیاامریکی سی آئی اے اہلکاروں کے ایک بار پھر کم عمر بچوں بچیوں کے ساتھ جنسی جرائم میں ملوث ہونے کا انکشافامریکہ کا مشرقی افریقہ میں تاریخ کے سب سے بڑے فوجی آپریشن کا اعلان: 1 ہزار سے زائد مزید کمانڈو تیارروسی صدر کی ثالثی: آزربائیجان اور آرمینیا کے مابین سرحدی جھڑپیں ختم، سرحدی حدود کے تعین پر اتفاق، جنگ سے متاثر آبادی اور دیگر انسانی حقوق کے تحفظ کی بھی یقین دہانینائیجیر: فرانسیسی فوج کی فائرنگ سے 2 شہری شہید، 16 زخمیامریکی فوج میں ہر 4 میں سے 1 عورت اور 5 میں سے 1 مرد جنسی زیادتی کا نشانہ بنتا ہے، بیشتر خود کشی کر لیتے، کورٹ مارشل کے خوف سے کوئی آواز نہیں اٹھاتا: سابقہ اہلکارروس کا غیر ملکی سماجی میڈیا کمپنیوں پر ملک میں کاروباری اندراج کے لیے دباؤ جاری: رواں سال کے آخر تک عمل نہ ہونے پر پابندی لگانے کا عندیاامریکہ ہائپر سونک ٹیکنالوجی میں چین اور روس سے بہت پیچھے ہے: امریکی جنرل تھامپسنامریکی تفریحی میڈیا صنعت کس عقیدے، نظریے اور مقصد کے تحت کام کرتی ہے؟

برطانوی اسکول میں بھی استاد نے کلاس کے دوران محمدﷺ کے کارٹون دکھا دیے: مقامی مسلم آبادی سراپا احتجاج، ہیڈماسٹر کی معافی بھی مسترد، استاد کو نوکری سے نکالنے کا مطالبہ

برطانیہ میں اسکول کے استاد کی جانب سے کلاس کے دوران پیغمبر محمدﷺ کے کارٹون دکھانے پر درجنوں مسلمان شہری احتجاج کر رہے ہیں۔ واقع مغربی یارک شائر کے بیٹلی گرامر اسکول میں پیش آیا جہاں بروز پیر دینیات کے درس کے دوران استاد نے بچوں کو فرانسیسی میگزین چارلی ہیبڈو کے شائع کردہ محمدﷺ کے کارٹون دکھائے۔ جس پر بچوں کے والدین اور مقامی مسلمانوں نے اسکول کے سامنے مظاہرہ کیا۔

واقع کو رفع دفع کرنے کے لیے اسکول کے ہیڈماسٹر نے والدین سے بلامشروط معافی مانگی تاہم والدین نے گستاخ استاد کے ملازمت سے نکالے جانے تک معافی قبول کرنے سے انکار کر دیا۔ والدین کا کہنا ہے کہ استاد اس سے پہلے بھی گستاخی کر چکا ہے، اسے مزید موقع نہیں دیا جا سکتا۔

مقامی مسجد کے امام نے ہیدماسٹر سے بات کی ہے اور اطلاعات کے مطابق انہیں استاد کے خلاف کارروائی کی یقین دہانی کروائی گئی ہے۔

اس کے علاوہ یارک شائر میں مقیم مسلمان سماجی میڈیا پر بھی استاد کے خلاف مہم چلا رہے ہیں اور واقع اب سماجی مسئلے کا رخ اختیار کر گیا ہے۔ مقامی مسلمانوں کے علاوہ کچھ غیرمسلم شہری بھی مذہب کی توہین یا انفرادی جذبات کی ہتک پر استاد کو قصور وار قرار دے رہے ہیں جبکہ دوسری طرف مقامی آبادی کا بڑا حصہ مظاہرے کو شریعت سے جوڑ کر اسلاموفوبیا پھیلانے کی کوشش کر رہا ہے۔

انتظامیہ نے علاقے میں پولیس تعینات کر دی ہے۔

واضح رہے کہ یارک شائرمیں مسلمانوں کی بڑی تعداد مقیم ہے، 2011 کی مردم شماری کے مطابق بیٹلے کی 80 ہزار کی آبادی میں 15ہزار مسلمان ہیں۔

دوست و احباب کو تجویز کریں

تبصرہ کریں

Contact Us