ہفتہ, جنوری 15 Live
Shadow
سرخیاں
قازقستان ہنگامے: مشترکہ تحفظ تنظیم کے سربراہ کا صورتحال پر قابو کا اعلان، امن منصوبے کی تفصیلات پیش کر دیںبرطانوی پارلیمنٹ میں منشیات کا استعمال: اسپیکر کا سونگھنے والے کتے بھرتی کرنے کا عندیاامریکی سی آئی اے اہلکاروں کے ایک بار پھر کم عمر بچوں بچیوں کے ساتھ جنسی جرائم میں ملوث ہونے کا انکشافامریکہ کا مشرقی افریقہ میں تاریخ کے سب سے بڑے فوجی آپریشن کا اعلان: 1 ہزار سے زائد مزید کمانڈو تیارروسی صدر کی ثالثی: آزربائیجان اور آرمینیا کے مابین سرحدی جھڑپیں ختم، سرحدی حدود کے تعین پر اتفاق، جنگ سے متاثر آبادی اور دیگر انسانی حقوق کے تحفظ کی بھی یقین دہانینائیجیر: فرانسیسی فوج کی فائرنگ سے 2 شہری شہید، 16 زخمیامریکی فوج میں ہر 4 میں سے 1 عورت اور 5 میں سے 1 مرد جنسی زیادتی کا نشانہ بنتا ہے، بیشتر خود کشی کر لیتے، کورٹ مارشل کے خوف سے کوئی آواز نہیں اٹھاتا: سابقہ اہلکارروس کا غیر ملکی سماجی میڈیا کمپنیوں پر ملک میں کاروباری اندراج کے لیے دباؤ جاری: رواں سال کے آخر تک عمل نہ ہونے پر پابندی لگانے کا عندیاامریکہ ہائپر سونک ٹیکنالوجی میں چین اور روس سے بہت پیچھے ہے: امریکی جنرل تھامپسنامریکی تفریحی میڈیا صنعت کس عقیدے، نظریے اور مقصد کے تحت کام کرتی ہے؟

بائیڈن انتظامیہ کے اعلیٰ عہدے دار کا افغان امن معاہدہ کے مطابق افغانستان سے فوجیں نہ نکالنے کا بیان: طالبان کی معاہدہ توڑنے پر سخت نتائج کی دھمکی

اعلیٰ امریکی عہدے دار نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکہ یکم مئی کو افغانستان سے مکمل انخلاء نہیں کرے گا۔ واضح رہے کہ اگر ایسا ہوتا ہے کہ تو امریکہ طالبان کے ساتھ کیے امن معاہدے کو توڑ دے گا۔

امریکی ایوان نمائندگان کی کمیٹی برائے اسلحہ کے سربراہ ایڈم سمتھ نے واشنگٹن میں ایک تحقیقاتی ادارے سے گفتگو میں کہا ہے کہ امریکہ صدر ٹرمپ کے افغان امن معاہدے کو پور انہیں کر رہا، یکم مئی بہت نزدیک ہے، اور یہ کسی صورت ممکن نہیں کہ آپ 6 ہفتوں میں 10 ہزار سے زائد فوجی کسی ملک سے نکال لو۔ امریکی عہدے دار کا کہنا تھا کہ انکی پہلی ترجیح ہو گی کہ وہ طالبان سے گفتگو کے لیے وقت لیں اور انہیں معاہدے کی میعاد بڑھانے پر راضی کریں، ایڈم کا کہنا تھا کہ ان کے خیال میں انکا جواز منطق کے عین مطابق ہے، اور امید ہے طالبان اسے مان لیں گے۔

امریکی عہدے دار کا مزید کہنا تھا کہ پینٹاگون نے سابق صدر ٹرمپ کو فوجیوں کی درست تعداد نہیں بتائی تھی، کاغذات کے مطابق افغانستان میں 3500 امریکی فوجی ہیں، جبکہ 1 ہزار بلا اندراج فوجی بھی تعینات ہیں۔ 7 ہزار نیٹو ممالک کے فوجی ہیں، لہٰذا اب اچانک 6 ہفتوں میں ہم کیسے اتنی بڑی تعداد کو نکال لیں؟

یاد رہے کہ امریکہ اور طالبان میں فروری 2020 میں امن معاہدہ طے پایا تھا جس کے تحت امریکہ کو مئی 2021 تک اپنے تمام فوجیوں کو افغانستان سے نکالنا تھا۔

امریکہ کے معاہدے سے مکرنے پر طالبان نے ردعمل میں کہا ہے کہ امریکہ کو وعدہ وفا نہ کرنے پر سخت نتائج بھگتنا ہوں گے، تاہم امید ہے کہ امریکہ وعدہ پورا کرے گا اور افغان امن کو یقینی بنانے کے لیے مستقل اور جامع حکمت عملی پر اتفاق ہو جائے گا۔

امریکی اعلیٰ عہدے دار نے بھی امریکی فوجیوں کے حوالے سے تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ انہیں احساس ہے کہ (معاہدہ توڑنے سے) امریکی فوجیوں کی جان خطرے میں پڑ جائے گی اور اگر امریکہ وعدے کے مطابق فوجیں نکال لے تو اسے دہشت گردی کے خلاف سفارت کاری کی بڑی کامیابی سمجھا جائے گا۔ ایڈم سمتھ نے مزید کہا کہ گزشتہ 20 سالوں میں ہم نے طاقت پر بہت زیادہ انحصار کیا، اور سوچا کہ زیادہ لوگ مارنے سے دہشت گردی کا مسئلہ خود مر جائے گا۔

واضح رہے کہ اس وقت امریکہ میں ایک بار پھر اوباما کی انتظامیہ کے بہت سے اہلکار یا تو بائیڈن کے ساتھ مل کر کام کر رہے ہیں یا تحقیقاتی اداروں کے ذریعے طالبان سے امن معاہدے کے خلاف قومی بیانیہ بنانے کی کوشش میں مشغول ہیں۔ لیزا کرٹس ان میں سے ایک نمایاں نام ہیں، جو سنٹر فار اے نیو امریکن سکیورٹی کی سربراہ ہیں؛ کرٹس کا کہنا ہے کہ امریکی افواج نکالنے سے طالبان افغانستان پر ایک سے ڈیڑھ سال میں دوبارہ قبضہ کر لیں گے، اور افغانستان ایک بار پھر دہشت گردوں کی آماجگاہ بن جائے گا۔

یاد رہے کہ انہی پراپیگنڈا خطرات کے پیش نظر سابق امریکی صدر نے امن معاہدے پر عمل کو یقینی بنانے کے لیے خصوصی حکم نامے کے ذریعے بھی افغانستان سے فوری افواج نکالنے کی کوشش کی تھی تاہم جنگی لابی کے زیر اثر جرنیلوں کے دباؤ پر صدر ٹرمپ ایسا نہیں کر پائے تھے، اور انہوں نے انتظامی اختلاف کی خبر باہر جانے پر پینٹاگون میں اپنے تعینات کردہ بہت سے افسران کو زبردستی برطرف بھی کر دیا تھا۔

تاہم اب صدر بائیڈن کو بھی اپنی ہی جماعت کے اہم سیاستدانوں اور افسران کی جانب سے معاہدہ نہ توڑنے کے حوالے سے دباؤ کا سامنا ہے، ڈیموکریٹ جماعت کے متعدد ایوان نمائندگان نے خصوصی خط میں صدر بائیڈن کو کہا ہے کہ؛ “امریکہ کو ان کبھی نہ ختم ہونے والی جنگوں کو بہت پہلے ختم کر دینا چاہیے تھا”۔

دوست و احباب کو تجویز کریں

تبصرہ کریں

Contact Us