غزہ کی رہائشی حبہ کے دو نو مولود یروشلم کے ایک ہسپتال میں والدین کی غیرموجودگی میں دم توڑ گۓ کیو نکہ والدین کو اسرائیلی حکومت کی جانب سےسفری اجازت نامہ نہ مل سکا تھ آ مزیدبات کرتے ہوۓ24 سالہ حبہ نے بتایا کہ قبل از وقت پیدائش کے سلسلے میں غزہ سے یروشلم جانے کے لیے اسے اسرائیلی حکومت سے سفری اجازت نامہ حاصل کرنا ہڑا- یروشلم کے مقاصد ہسپتال میں حبہ نے تین جڑواں بچوں کو جنم دیا جو انتہائی لاغر و کمزور تھے-انھیں ماں کی ضرورت تھی لیکن اسی دوران اجازت نامے کی مدت ختم ہو جانے کے باعث اسے اور اس کے شوہر کو واپس غزہ جانے پر مجبور کر دیا گیا
مزید بات کرتے ہوۓ حبہ نے بتایا کہ میں نے آن سے التجائیں کیں کہ مجھے بچوں کو دودھ پلانے کی غرض سے ہی رہنے دیا جاۓ مگر انھوں نے اجازت دینے سے انکار کر دیا
میں چلاتی رہی -میرے لیے آسان نہ تھا کہ اپنے نو زائدہ کمزور و لاغر بچوں کو تنہا چھوڑ دوں -میں نہیں جانتی تھی کہ وہ زندہ رہیں گے یا مر جائیں گے- میں لٹی پٹی گھر پہنچی
نتیجتہً حبہ کی غیر موجودگی میں اس کے دو نومولود ہسپتال میں دم توڑ گۓ-حبہ کو فون پر ان کی وفات کی اطلاع ملی-بچ جانے والی تیسری بچی کو اپنے والدین کے لیے اسرائیلی حکومت کی جانب سے سفری اجازت نامہ ملنے تک مہینوں انتظار کرنا پڑا- حبہ کے شوہر محمد کا کہنا ہے کہاس دوران انھیں شدید ذہنی دباؤ اور پریشانی کا سامنا کرنا پڑا لیکن اللہ کا شکر ہے کہ ان کی ایک بچی زندہ بچ گئ
