وائٹ ہاؤس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہاکہ افغان طالبان سے افغان امن عمل کے لیے مذاکرات کیے جارہے ہیں جس میں کافی پیش رفت بھی ہوچکی ہے۔
صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ امریکی فوج چاہے تو اب بھی وہ دو ، تین یا چار دن میں افغانستان کو فتح کرسکتی ہے لیکن وہ وہاں 10 ملین افراد کی ہلاکتیں نہیں چاہتے۔ امریکی صدر نے واضح کیا کہ وہ افغانستان کے لیے ایٹمی ہتھیاروں کے بجائے روایتی ہتھیاروں کو ترجیح دیتے ہیں۔
امریکی صدر نے مزید کہا کہ ایٹمی میزائلوں کی تخفیف کے نئے معاہدے میں چین کو بھی شامل کرنا چاہیے کیونکہ یہ دنیا کے لیے زبردست چیز ہوگی۔
خیال رہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے یہ بات امریکا کی جانب سے روس کے ساتھ معاہدے سے دستبرداری کے اعلان کے بعد کہی ہے، معاہدے کے تحت دونوں ملک درمیانے فاصلے تک مار کرنے والے میزائل ختم کرنے کے پابند تھے۔مزید یہ کہ معاہدے سے دستبرادی کے بعد امریکی وزیر دفاع نے نئے کروز اور بلیسٹک میزائل سسٹمز کی تیاری تیز کرنے کا اعلان بھی کر دیا ہے
