پاکستانی وزیر اعظم عمران خان نے بھارت کی طرف سے کشمیر کی خودمختاری کے خاتمے پر عالمی قوتوں سے اپیل کرتے ہوئے کہا کہ بھارتی جارحیت پرآنکھیں بند کرنا دوسری عالمی جنگ سے قبل اڈولف ہٹلر کو راضی کرنے کے مترادف ہے
یاد رہے کہ بھارت اور پاکستان کے مابین تعلقات میں کشیدگی اس ہفتے کے شروع میں اس وقت بڑھ گئی جب بھارت نے مسلم اکثریتی ریاست جموں وکشمیر کی ریاستی خودمختاری کو مسترد کردیا ۔یہ علاقہ متنازعہ کشمیر کا ایک حصہ ہے جس پر بھارت 1940 کی دہائی کے آخر سے کنٹرول کررہا ہے۔ وزیر اعظم نریندر مودی کی سربراہی میں برسراقتدار بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کا اصرار ہے کہ اس اقدام سے خطے کی سلامتی اور معاشی ترقی میں بہتری آئے گی۔
بھارت کے اس اقدام سے پاکستان میں بڑے پیمانے پر غم و غصہ پھیل گیا ، جو پورے کشمیر کو اپنی سرزمین سمجھتا ہے۔ پاکستانی حکومت نے ہندوستان کے ساتھ تمام تجارتی تعلقات منقطع کردیئے ہیں اور اب وہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں حمایت حاصل کرنے کے لئے جارہا ہے۔
اتوار کے روز ایک ٹویٹ میں ، پاکستانی وزیر اعظم خان نے کشمیر کے ارد گرد پائی جانے والی نئی کشیدگی کا موازنہ یورپ میں دوسری جنگ عظیم سے قبل کی دھماکہ خیز صورتحال سے کیا۔خان نے لکھا کہ سوال یہ ہے کہ : کیا دنیاایسے ہی خاموشی سے دیکھتی رہے گی جیسے ہٹلر کو میونخ میں دیکھتی رہی ؟انہوں نے پوچھا کہ کیا یہ 80 سال قبل معروف یورپی ممالک کی طرف سے چلائی جانے والی بدنام زمانہ ‘مطمئن پالیسی ہےجس سے نازی جرمنی کو چیکوسلوواکیا کے بڑے حصے کو بغیر کسی سنگین نتائج کےہڑپ کر نے کی اجازت ملی
