جمعرات, April 9 https://www.rt.com/on-air/ Live
Shadow
سرخیاں
بحرانی صورتحال: مغربی رہنما اپنے عوام سے مزید قربانیاں طلب کر رہے ہیں۔ایران جنگ ‘امریکی سلطنت کا خاتمہ’ ہے – ٹکر کارلسنبرطانوی شاہی بحریہ میں نشے اور جنسی زیادتیوں کے واقعات کا انکشاف، ترجمان کا تبصرے سے انکار، تحقیقات کی یقین دہانیتیونسی شہری رضا بن صالح الیزیدی کسی مقدمے کے بغیر 24 برس بعد گوانتانوموبے جیل سے آزادمغربی طرز کی ترقی اور لبرل نظریے نے دنیا کو افراتفری، جنگوں اور بےامنی کے سوا کچھ نہیں دیا، رواں سال دنیا سے اس نظریے کا خاتمہ ہو جائے گا: ہنگری وزیراعظمامریکی جامعات میں صیہونی مظالم کے خلاف مظاہروں میں تیزی، سینکڑوں طلبہ، طالبات و پروفیسران جیل میں بندپولینڈ: یوکرینی گندم کی درآمد پر کسانوں کا احتجاج، سرحد بند کر دیخود کشی کے لیے آن لائن سہولت، بین الاقوامی نیٹ ورک ملوث، صرف برطانیہ میں 130 افراد کی موت، چشم کشا انکشافاتپوپ فرانسس کی یک صنف سماج کے نظریہ پر سخت تنقید، دور جدید کا بدترین نظریہ قرار دے دیاصدر ایردوعان کا اقوام متحدہ جنرل اسمبلی میں رنگ برنگے بینروں پر اعتراض، ہم جنس پرستی سے مشابہہ قرار دے دیا، معاملہ سیکرٹری جنرل کے سامنے اٹھانے کا عندیا

ترکی سرحدی زون کو محفوظ بنانے کے بعد 30 لاکھ مہاجرین کو شام واپس بھیجے گا۔اردگان

ترکی کے صدر رجب طیب اردگان نے کہا ہے کہ ترکی، منبیج سے لے کر عراقی سرحد تک شام میں کرد ملیشیا کو دھکیلنے کا ارادہ رکھتا ہے اور اس وقت اس کی سرزمین میں مقیم 30 لاکھ مہاجرین کو دوبارہ آباد کرے گا۔

اردگان نے آذربائیجان کے دارالحکومت باکو میں ترک کونسل کی میٹنگ میں بتایا کہ منگل کی صبح تک ترک افواج نے “ایک ہزار مربع کلومیٹر کے علاقے کو علیحدگی پسند دہشت گرد گروہ کے قبضے سے آزاد کرا لیا ہے۔” وہ کرد ملیشیاؤں کا حوالہ دے رہے تھے ، جنھیں انقرہ ، ترکی میں مقیم ایک عسکریت پسند اور سیاسی تنظیم پی کے کے کی توسیع کے طور پر مانتا ہے۔

اردگان نے کہا کہ ان کا ملک منبیج سے عراقی سرحد تک مشرق کے پورے علاقے کودہشت گردوں سے صاف کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔ اوراس سرزمین کو پھر تیس لاکھ شامی مہاجرین کی آباد کاری کے لئے استعمال کیا جائے گا ، جو اس وقت ترکی کے پاس رہ رہےہیں۔

دوست و احباب کو تجویز کریں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

17 − one =

Contact Us