ہندوستانی وزیر اعظم نریندر مودی نے پاکستان کو متنبہ کرتے ہوئےکہا ہے کہ وہ ’ہندوستانی پانی‘ کی ایک بوند کو ضائع نہ ہونے دیں گے – انہوں نے یہ بات تب کہی جب اسلام آباد نےکہا بھارت کی جانب سے دریاؤں کو موڑنے کی کسی بھی کوشش کو ’جارحیت کی کارروائی‘سمجھا جائے گا۔
جمعہ کے روز وزیر اعظم نے ایک انتخابی ریلی میں ہندوستان کے دریائے سندھ کے پانی کے ایک حصے کو چھوڑنے کی اجازت دینے پر اپوزیشن پارٹی پر طنزیہ الفاظ میں کہا کہ “ایک بار میں نے کچھ کرنے کا فیصلہ کیا تو ، میں ہمیشہ اسے انجام دیتا ہوں۔” جس پانی پر ہریانہ کے کسانوں کا حق ہے وہ اب پاکستان میں نہیں بہے گا
تاہم ، پاکستانی وزیر خارجہ نے ہندوستان پر الزام لگایا کہ بھارت نہ صرف اپنے پانی کے زیادہ سے زیادہ حصے کو استعمال کرنے کا منصوبہ بنا رہا ہے ، بلکہ دریاؤں کو در حقیقت موڑنے کی سازش کررہا ہے ۔ وزیر اعظم مودی کے الفاظ کو اس حقیقت کی ایک اور واضح مثال قرار دیتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ہندوستان کی موجودہ حکومت ہندوستان کو ایک غیر ذمہ دارانہ اور جارحانہ ریاست بنانے پر تلی ہوئی ہے جس میں انسانی حقوق یا بین الاقوامی ذمہ داریوں کا کوئی لحاظ نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ سندھ آبی معاہدے کے تحت پاکستان کو تین مغربی دریاؤں پر “خصوصی حقوق” حاصل ہیں۔ پاکستانی وزیرخارجہ نے مزید کہا کہ
بھارت کی جانب سے ان دریاؤں کے بہاؤ کو موڑنے کی ہر کوشش کو جارحیت قرار دیا جائے گا اور پاکستان کو اس کا جواب دینے کا حق ہے۔
