جمعرات, April 9 https://www.rt.com/on-air/ Live
Shadow
سرخیاں
بحرانی صورتحال: مغربی رہنما اپنے عوام سے مزید قربانیاں طلب کر رہے ہیں۔ایران جنگ ‘امریکی سلطنت کا خاتمہ’ ہے – ٹکر کارلسنبرطانوی شاہی بحریہ میں نشے اور جنسی زیادتیوں کے واقعات کا انکشاف، ترجمان کا تبصرے سے انکار، تحقیقات کی یقین دہانیتیونسی شہری رضا بن صالح الیزیدی کسی مقدمے کے بغیر 24 برس بعد گوانتانوموبے جیل سے آزادمغربی طرز کی ترقی اور لبرل نظریے نے دنیا کو افراتفری، جنگوں اور بےامنی کے سوا کچھ نہیں دیا، رواں سال دنیا سے اس نظریے کا خاتمہ ہو جائے گا: ہنگری وزیراعظمامریکی جامعات میں صیہونی مظالم کے خلاف مظاہروں میں تیزی، سینکڑوں طلبہ، طالبات و پروفیسران جیل میں بندپولینڈ: یوکرینی گندم کی درآمد پر کسانوں کا احتجاج، سرحد بند کر دیخود کشی کے لیے آن لائن سہولت، بین الاقوامی نیٹ ورک ملوث، صرف برطانیہ میں 130 افراد کی موت، چشم کشا انکشافاتپوپ فرانسس کی یک صنف سماج کے نظریہ پر سخت تنقید، دور جدید کا بدترین نظریہ قرار دے دیاصدر ایردوعان کا اقوام متحدہ جنرل اسمبلی میں رنگ برنگے بینروں پر اعتراض، ہم جنس پرستی سے مشابہہ قرار دے دیا، معاملہ سیکرٹری جنرل کے سامنے اٹھانے کا عندیا

ٹرمپ کے خلاف مواخذے کی تحقیقات امریکی عدالت کی جانب سےقانونی قراردے دی گئیں

امریکی عدالت کی جانب سے ڈونلڈ ٹرمپ کے خلاف مواخذے کی تحقیقات کی اجازت کو امریکی صدر کےلئے  بڑا دھچکا اور ان کی حریف جماعت ڈیموکریٹک پارٹی کی بڑی کامیابی قرار دیا جارہا ہے۔

واشنگٹن کی ایک عدالت کی جانب سے صدر کے خلاف مواخذے کی تحقیقات کو قانونی قرار دینے کے ساتھ محکمہ انصاف کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ اس حوالے سے تحقیقات کرنے والی کانگریس کی عدالتی کمیٹی کو  اسپیشل کونسل رابرٹ ملر کی  خفیہ تحقیقاتی رپورٹ سپرد کرے۔

واضح رہے کہ امریکی ایوان نمائندگان کی تین رکنی کمیٹی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے خلاف مواخذے کی تحریک پر تحقیقات کر رہی ہے  جس کی جانب سے ملر رپورٹ کے حوالے سے عدالت سے رجوع کیا گیا تھا۔ صدر ٹرمپ پر الزام ہے کہ وہ 2016 کے الیکشن میں اپنی حریف  ہیلری کلنٹن کو روس کی مدد سے  شکست دے کرکامیاب ہوئے ہیں۔

واضح رہے کہ2017 میں ڈیموکریٹک پارٹی کے مطالبے پر  رابرٹ ملر کی سربراہی میں ایک کمیٹی بنائی گئی تھی جس نے دوسال کی تحقیقات کے بعد رپورٹ پیش کی، تاہم اٹارنی جنرل آفس کی جانب سے  تحقیقاتی رپورٹ کا صرف خلاصہ شائع کیا گیا جس میں  کوئی حتمی نتیجہ نہیں بتایا گیا تھا جب کہ ٹرمپ نے اسے اپنی جیت قرار دیا تھا۔

رواں سال اگست میں یہ معاملہ اس وقت دوبارہ اہمیت اختیار کرگیا جب ٹرمپ پر الزام لگایا گیا کہ انہوں نے انہوں نے 2020 میں اپنے ممکنہ صدارتی حریف جوبائیڈن کے خلاف تحقیقات کےلئے یوکرائن پر دباؤ ڈالا اور بصورت دیگر یوکرین کی فوجی امداد روکنے کی بھی دھمکی دی۔

دوست و احباب کو تجویز کریں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

four × one =

Contact Us