امریکی عدالت کی جانب سے ڈونلڈ ٹرمپ کے خلاف مواخذے کی تحقیقات کی اجازت کو امریکی صدر کےلئے بڑا دھچکا اور ان کی حریف جماعت ڈیموکریٹک پارٹی کی بڑی کامیابی قرار دیا جارہا ہے۔
واشنگٹن کی ایک عدالت کی جانب سے صدر کے خلاف مواخذے کی تحقیقات کو قانونی قرار دینے کے ساتھ محکمہ انصاف کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ اس حوالے سے تحقیقات کرنے والی کانگریس کی عدالتی کمیٹی کو اسپیشل کونسل رابرٹ ملر کی خفیہ تحقیقاتی رپورٹ سپرد کرے۔
واضح رہے کہ امریکی ایوان نمائندگان کی تین رکنی کمیٹی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے خلاف مواخذے کی تحریک پر تحقیقات کر رہی ہے جس کی جانب سے ملر رپورٹ کے حوالے سے عدالت سے رجوع کیا گیا تھا۔ صدر ٹرمپ پر الزام ہے کہ وہ 2016 کے الیکشن میں اپنی حریف ہیلری کلنٹن کو روس کی مدد سے شکست دے کرکامیاب ہوئے ہیں۔
واضح رہے کہ2017 میں ڈیموکریٹک پارٹی کے مطالبے پر رابرٹ ملر کی سربراہی میں ایک کمیٹی بنائی گئی تھی جس نے دوسال کی تحقیقات کے بعد رپورٹ پیش کی، تاہم اٹارنی جنرل آفس کی جانب سے تحقیقاتی رپورٹ کا صرف خلاصہ شائع کیا گیا جس میں کوئی حتمی نتیجہ نہیں بتایا گیا تھا جب کہ ٹرمپ نے اسے اپنی جیت قرار دیا تھا۔
رواں سال اگست میں یہ معاملہ اس وقت دوبارہ اہمیت اختیار کرگیا جب ٹرمپ پر الزام لگایا گیا کہ انہوں نے انہوں نے 2020 میں اپنے ممکنہ صدارتی حریف جوبائیڈن کے خلاف تحقیقات کےلئے یوکرائن پر دباؤ ڈالا اور بصورت دیگر یوکرین کی فوجی امداد روکنے کی بھی دھمکی دی۔
