روسی وزیر خارجہ سر گئی لاوروف نے روسی نشریاتی ادارے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ دہشت گرد تنظیم داعش کا سابق سرغنہ ابو بکر البغدادی دراصل امریکہ کی ہی ایک ایجاد تھا۔ امریکہ نے اسے تیار کیا اور ٹشو پیپر کی طرح استعمال کیا۔
اپنے انکشاف کے حقیقی ہونے کی دلیل میں وزیر خارجہ نے بتایا کہ 2003 میں امریکہ امن کا بہانہ بنا کرعراق پر قابض ہوا اور زوال پذیر ملک میں جیلوں میں قید خطرناک ترین جنگجوؤں کو رہا کیا جس کے بعد عراق میں داعش نے اپنی جڑیں مضبوط کیں اور ابوبکر البغدادی طاقت ور ہوتا گیا۔
سرگئی لاوروف نے ابوبکر کی ہلاکت کی تصدیق سے گریز کرتے ہوئے کہا کہ ہماری وزارت دفاع نے اس حوالے سے ایک بیان جاری کیا ہے، ہم اس معاملے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں جس کے لیے روسی فوج اضافی شواہد کی تلاش کر رہی ہے اور اب تک البغدادی کی ہلاکت کی تصدیق نہیں ہوسکی ہے۔
واضح رہے کہ امریکہ نے شام کے سرحدی علاقے میں ایک فوجی آپریشن کے دوران داعش کے سرغنہ ابوبکر البغدادی کی اپنے 3 بچوں اور 2 بیگمات سمیت ہلاک ہوگئے تھے اور جس کی تصدیق خود امریکی صدر نے اپنے براہ راست نشر ہونے والے بیان میں کی تھی۔
