مقامی ذرائع کے مطابق دارالحکومت برلن میں مرکزی تقریب میں چانسلر انجیلا مرکل اور جرمن صدر فرانک والٹر شٹائن مائر نے شرکت کی ۔ اس موقع پر چانسلر اینجیلا مرکیل نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ہر وہ دیوار جو لوگوں کو تقسیم کرے، آزادیوں پر پابندی لگائے وہ اتنی بلند نہیں ہو سکتی کہ اسے توڑا نہ جا سکے‘۔
واضح رہے کہ سرد جنگ کے دور میں دیوارِ برلن سوویت یونین کے زیر انتظام مشرقی برلن کو مغربی برلن سے جدا کرنے کے لیے بنائی گئی تھی۔ اس کی تعمیر سنہ 1961 میں شروع ہوئی۔سنہ 1989 میں اس کے انہدام کو لبرل جمہوریت کی فتح کے طور پر دیکھا گیا۔3اور اکتوبر 1990ء کو جرمنی کا انضمام مکمل ہوا تھا اوراس کے انہدام کے ایک برس بعد منقسم جرمنی کا اتحاد بحال ہوا تھا۔ سنہ 1989 میں وسطی اور مشرقی یورپ میں برپا ہونے والے انقلاب کے دوران دیوار برلن کو گرا دیا گیا تھا۔ اس انقلاب کے دوران عوامی احتجاج اور سیاسی تحریکوں کے باعث بہت سی روس نواز کمیونسٹ حکومتوں کا تختہ پلٹا گیا
اتوار کے روز اینجیلا مرکل نے اپنے خطاب میں کہا کہ آزادی، جمہوریت، مساوات، قانون کی حکمرانی اور انسانی حقوق جیسی قدریں جن پر یورپ کی بنیاد رکھی گئی وہ روز روشن کی طرح عیاں ہیں تاہم ان قدروں کا تواتر کے ساتھ دفاع اور انھیں تقویت پہنچانا بہت ضروری ہے۔
دیوارِ برلن کے میموریل ہر منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ان کا مزید کہنا تھا کہ ‘ہمیں آزادی اور جمہوریت کے لیے اپنا کردار ادا کرتے ہوئے کسی بھی طرح کے حیلے بہانوں سے دور رہنا چاہیے۔
جرمنی کے صدر فرینک والٹر نے جرمنی کے ہمسایہ ممالک کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ ‘پولینڈ، ہنگری، چیک ریپبلک اور سلواکیہ کی آزادی کی خواہش کے بغیر مشرقی یورپ میں انقلاب اور جرمنی کا اتحاد ناممکن تھا۔’البتہ ‘لبرل جمہوریت کو اب بھی چیلنجز درپیش ہیں۔’
اس موقع پرجرمنی کے وزیر خارجہ نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یورپ میں طاقت کا محور بدل رہا ہے اور آمرانہ طرز حکومت میں اضافہ ہو رہا ہے۔
