جمعرات, April 9 https://www.rt.com/on-air/ Live
Shadow
سرخیاں
بحرانی صورتحال: مغربی رہنما اپنے عوام سے مزید قربانیاں طلب کر رہے ہیں۔ایران جنگ ‘امریکی سلطنت کا خاتمہ’ ہے – ٹکر کارلسنبرطانوی شاہی بحریہ میں نشے اور جنسی زیادتیوں کے واقعات کا انکشاف، ترجمان کا تبصرے سے انکار، تحقیقات کی یقین دہانیتیونسی شہری رضا بن صالح الیزیدی کسی مقدمے کے بغیر 24 برس بعد گوانتانوموبے جیل سے آزادمغربی طرز کی ترقی اور لبرل نظریے نے دنیا کو افراتفری، جنگوں اور بےامنی کے سوا کچھ نہیں دیا، رواں سال دنیا سے اس نظریے کا خاتمہ ہو جائے گا: ہنگری وزیراعظمامریکی جامعات میں صیہونی مظالم کے خلاف مظاہروں میں تیزی، سینکڑوں طلبہ، طالبات و پروفیسران جیل میں بندپولینڈ: یوکرینی گندم کی درآمد پر کسانوں کا احتجاج، سرحد بند کر دیخود کشی کے لیے آن لائن سہولت، بین الاقوامی نیٹ ورک ملوث، صرف برطانیہ میں 130 افراد کی موت، چشم کشا انکشافاتپوپ فرانسس کی یک صنف سماج کے نظریہ پر سخت تنقید، دور جدید کا بدترین نظریہ قرار دے دیاصدر ایردوعان کا اقوام متحدہ جنرل اسمبلی میں رنگ برنگے بینروں پر اعتراض، ہم جنس پرستی سے مشابہہ قرار دے دیا، معاملہ سیکرٹری جنرل کے سامنے اٹھانے کا عندیا

دیوار برلن کے انہدام کے 30 سال مکمل

مقامی ذرائع کے مطابق دارالحکومت برلن میں مرکزی تقریب میں چانسلر انجیلا مرکل اور جرمن صدر فرانک والٹر شٹائن مائر نے شرکت کی ۔ اس موقع پر چانسلر اینجیلا مرکیل نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ہر وہ دیوار جو لوگوں کو تقسیم کرے، آزادیوں پر پابندی لگائے وہ اتنی بلند نہیں ہو سکتی کہ اسے توڑا نہ جا سکے‘۔

واضح رہے کہ سرد جنگ کے دور میں دیوارِ برلن سوویت یونین کے زیر انتظام مشرقی برلن کو مغربی برلن سے جدا کرنے کے لیے بنائی گئی تھی۔ اس کی تعمیر سنہ 1961 میں شروع ہوئی۔سنہ 1989 میں اس کے انہدام کو لبرل جمہوریت کی فتح کے طور پر دیکھا گیا۔3اور اکتوبر 1990ء کو جرمنی کا انضمام مکمل ہوا تھا اوراس کے انہدام کے ایک برس بعد منقسم جرمنی کا اتحاد بحال ہوا تھا۔ سنہ 1989 میں وسطی اور مشرقی یورپ میں برپا ہونے والے انقلاب کے دوران دیوار برلن کو گرا دیا گیا تھا۔ اس انقلاب کے دوران عوامی احتجاج اور سیاسی تحریکوں کے باعث بہت سی روس نواز کمیونسٹ حکومتوں کا تختہ پلٹا گیا

اتوار کے روز اینجیلا مرکل نے اپنے خطاب میں کہا کہ آزادی، جمہوریت، مساوات، قانون کی حکمرانی اور انسانی حقوق جیسی قدریں جن پر یورپ کی بنیاد رکھی گئی وہ روز روشن کی طرح عیاں ہیں تاہم ان قدروں کا تواتر کے ساتھ دفاع اور انھیں تقویت پہنچانا بہت ضروری ہے۔

دیوارِ برلن کے میموریل ہر منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ان کا مزید کہنا تھا کہ ‘ہمیں آزادی اور جمہوریت کے لیے اپنا کردار ادا کرتے ہوئے کسی بھی طرح کے حیلے بہانوں سے دور رہنا چاہیے۔

جرمنی کے صدر فرینک والٹر نے جرمنی کے ہمسایہ ممالک کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ ‘پولینڈ، ہنگری، چیک ریپبلک اور سلواکیہ کی آزادی کی خواہش کے بغیر مشرقی یورپ میں انقلاب اور جرمنی کا اتحاد ناممکن تھا۔’البتہ ‘لبرل جمہوریت کو اب بھی چیلنجز درپیش ہیں۔’

اس موقع پرجرمنی کے وزیر خارجہ نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یورپ میں طاقت کا محور بدل رہا ہے اور آمرانہ طرز حکومت میں اضافہ ہو رہا ہے۔


دوست و احباب کو تجویز کریں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

four + seven =

Contact Us