منگل, فروری 20 https://www.rt.com/on-air/ Live
Shadow
سرخیاں
صدر ایردوعان کا اقوام متحدہ جنرل اسمبلی میں رنگ برنگے بینروں پر اعتراض، ہم جنس پرستی سے مشابہہ قرار دے دیا، معاملہ سیکرٹری جنرل کے سامنے اٹھانے کا عندیامغرب روس کو شکست دینے کے خبط میں مبتلا ہے، یہ ان کے خود کے لیے بھی خطرناک ہے: جنرل اسمبلی اجلاس میں سرگئی لاوروو کا خطاباروناچل پردیش: 3 کھلاڑی چین اور ہندوستان کے مابین متنازعہ علاقے کی سیاست کا نشانہ بن گئے، ایشیائی کھیلوں کے مقابلے میں شامل نہ ہو سکےایشیا میں امن و استحکام کے لیے چین کا ایک اور بڑا قدم: شام کے ساتھ تذویراتی تعلقات کا اعلانامریکی تاریخ کی سب سے بڑی خفیہ و حساس دستاویزات کی چوری: انوکھے طریقے پر ادارے سر پکڑ کر بیٹھ گئےیورپی کمیشن صدر نے دوسری جنگ عظیم میں جاپان پر جوہری حملے کا ذمہ دار روس کو قرار دے دیااگر خطے میں کوئی بھی ملک جوہری قوت بنتا ہے تو سعودیہ بھی مجبور ہو گا کہ جوہری ہتھیار حاصل کرے: محمد بن سلمانمغربی ممالک افریقہ کو غلاموں کی تجارت پر ہرجانہ ادا کریں: صدر گھانامغربی تہذیب دنیا میں اپنا اثر و رسوخ کھو چکی، زوال پتھر پہ لکیر ہے: امریکی ماہر سیاستعالمی قرضوں میں ریکارڈ اضافہ: دنیا، بنکوں اور مالیاتی اداروں کی 89 پدم روپے کی مقروض ہو گئی

امریکی ایوان کانگریس میں ایک بار پھر مسئلہ کشمیر موضوعِ بحث

آرٹیکل 370 کی منسوخی اورمقبوضہ کشمیر کے نقشے میں تبدیلی کے بھارتی اقدام کے اثرات کا جائزہ لینے والی امریکی کانگریس کی کمیٹی ہاؤس آف فارن افیئرز کے چیئرمین ایلوئٹ ایک اینجل نے کشمیر کے حوالے سے تحفظات ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ ہم صورتحال کا بغور جائزہ لے رہے ہیں‘۔

کانگریس کے رکن ٹام لینٹوز کا انسانی حقوق کمیشن بھی جمعرات کے روز ایک سماعت کرے گا جس میں ’بھارت کے تاریخی اور قومی تناظر میں مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی صورتحال کا جائزہ‘ لیا جائے گا۔

تاہم یہ اقدام رکنِ کانگریس پرمیلا جے پال کے نزدیک ناکافی ہے جو چاہتی ہیں کہ کانگریس کی قرارداد کے ذریعے کشمیر کی پالیسیز پر نظرِ ثانی کرنے کے لیے بھارت کو واضح پیغام دیا جائے۔خیال رہے کہ پرمیلا جے پال امریکی ایوانِ نمائندگان میں منتخب ہونے والی پہلی بھارتی نژاد خاتون رکن ہیں۔

گزشتہ دنوں بھارت، پاکستان اور افغانستان کا دورہ کرنے والے سینیٹر وین ہولین نے مقبوضہ کشمیر کے دورے کی اجازت نہ دینے پر بھارتی حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا۔خیال رہے کہ مسئلہ کمشیر اور مقبوضہ وادی میں بھارتی مظالم کو آشکار کرنے کے لیے کانگریس کمیشن کی جمعرات کو ہونے والی سماعت اتنی ہی اہم ہے جتنی کشمیر کے معاملے پر ’بھارت کو واضح پیغام دینے‘ کی قرارداد کے لیے رکنِ کانگریس پرمیلا جے پال کی کوشش

اس کے علاوہ ایک اور قانون ساز سینیٹر کرس وین ہولین نے سینیٹ کے بل میں کی جانے والی ترمیم کی حمایت کی جس میں مقبوضہ کشمیر پر عائد پابندیوں کا تذکرہ کیا گیا تھا۔میری لینڈ کے اسلامک سینٹر میں ایک تقریب میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے بھارت حکومت پر زور دیا کہ کشمیری عوام کے لیے ’انسانی حقوق کے بین الاقوامی قانون کی پیروی اور جمہوری آزادی کی پاسداری کرے‘۔

ان کی اس کاوش پر بھارت کے بڑے اخبار دی اکنامک ٹائمز نے ان کی اس کوشش پر تبصرہ کرتے ہوئے ان کا موازنہ کانگریس کے ریپبلکن رکن ڈین برٹن سے کیا جو کشمیر اور پنجاب کے معاملےپر بھارت کو تنقید کا نشانہ بناتے رہتے ہیں۔

اخبار نے خبردار کیا کہ پرمیلا جے پال کا اقدام بھارت کو پشیمانی سے دوچار کرسکتا ہے جس طرح گزشتہ ماہ رکنِ کانگریس الہٰان عمر نے جنوبی ایشیا کی سماعت کے دوران مقبوضہ کشمیر پر نئی دہلی کے دعوے کو کھلے عام چیلنج کر کے کیا تھا۔

دوست و احباب کو تجویز کریں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

1 × 3 =

Contact Us