Shadow
سرخیاں
بحرانی صورتحال: مغربی رہنما اپنے عوام سے مزید قربانیاں طلب کر رہے ہیں۔ایران جنگ ‘امریکی سلطنت کا خاتمہ’ ہے – ٹکر کارلسنبرطانوی شاہی بحریہ میں نشے اور جنسی زیادتیوں کے واقعات کا انکشاف، ترجمان کا تبصرے سے انکار، تحقیقات کی یقین دہانیتیونسی شہری رضا بن صالح الیزیدی کسی مقدمے کے بغیر 24 برس بعد گوانتانوموبے جیل سے آزادمغربی طرز کی ترقی اور لبرل نظریے نے دنیا کو افراتفری، جنگوں اور بےامنی کے سوا کچھ نہیں دیا، رواں سال دنیا سے اس نظریے کا خاتمہ ہو جائے گا: ہنگری وزیراعظمامریکی جامعات میں صیہونی مظالم کے خلاف مظاہروں میں تیزی، سینکڑوں طلبہ، طالبات و پروفیسران جیل میں بندپولینڈ: یوکرینی گندم کی درآمد پر کسانوں کا احتجاج، سرحد بند کر دیخود کشی کے لیے آن لائن سہولت، بین الاقوامی نیٹ ورک ملوث، صرف برطانیہ میں 130 افراد کی موت، چشم کشا انکشافاتپوپ فرانسس کی یک صنف سماج کے نظریہ پر سخت تنقید، دور جدید کا بدترین نظریہ قرار دے دیاصدر ایردوعان کا اقوام متحدہ جنرل اسمبلی میں رنگ برنگے بینروں پر اعتراض، ہم جنس پرستی سے مشابہہ قرار دے دیا، معاملہ سیکرٹری جنرل کے سامنے اٹھانے کا عندیا

امریکہ شام میں مستقل فوجی تعینات رکھے گا۔ سیکریٹری دفاع مارک ایسپر

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے شام میں جنگ کو ’ناختم ہونے والی لڑائی‘ قرار دے کر امریکی فوجیوں کے انخلا کی خواہش کا اظہار کیا تھا لیکن اس کے باوجود امریکی سیکریٹری دفاع نے شمالی شام میں 600 فوجیوں کی مستقل تعیناتی کا اعلان کردیا ہے۔

مارک ایسپر نے ایشیا کے دورے پر روانگی سے قبل میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ شام کے شمال مشرقی علاقے سے امریکی فوج کا انخلا اب بھی جاری ہے لیکن 600 کے قریب امریکی فوجی تیل تنصیبات کی نگرانی کے لیے وہاں مستقل موجود رہیں گے۔امریکی سیکریٹری دفاع نے مزید کہا کہ یورپی اتحادیوں کی جانب سے شام میں اپنے فوجیوں کی موجودگی کو بہتر بنانے کے لیے امریکی فوجیوں کی تعداد میں کمی بیشی ہو سکتی ہے۔

خیال رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گزشتہ ماہ اچانک شام سے تمام فوجیوں کے انخلا کا اعلان کیا تھا جس پر ناقدین کا کہنا تھا کہ امریکی فیصلے سے شدت پسند تنظیم داعش کو دوبارہ پروان چڑھنے کا موقع مل جائے گا۔

دوست و احباب کو تجویز کریں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

16 − 1 =

Contact Us