مقبوضہ وادی میں بھارتی لاک ڈاؤن کو 100 دن مکمل ہوگئے ۔ وہاں کاروبار زندگی بدستور معطل ہے اور مواصلاتی رابطے منقطع ہیں۔ وادی میں کرفیو، شہادتیں اور گرفتاریاں رک نہ سکیں، آج بھی گاندربل میں ایک کشمیری نوجوان کوشہید کردیاگیا، 48 گھنٹوں میں 4 کشمیری نوجوانوں کی شہادت ہوچکی ہیں ۔بھارت نے گذشتہ 100 دنوں سے مقبوضہ کشمیر میں لاک ڈاؤن کررکھا ہے۔ دکانیں، کاروباری مراکز، موبائل سروس، انٹرینٹ، پبلک ٹرانسپورٹ اور تعلیمی ادارے بند ہیں۔ جبکہ عالمی برادری اس معاملے پر خاموش نظر آتی ہے
بھارت کے مظالم اور پابندیوں کے سامنے کشمیری سیسہ پلائی دیوار بنے کھڑے ہیں، 100دنوں میں کشمیری نوجوانوں نے متعدد بار کرفیو توڑ کر بھارت کے خلاف مظاہرے کئے۔بھارتی فورسز نے مظاہرین کے خلاف طاقت کا وحشیانہ استعمال کیا جس سے متعدد کشمیری زخمی بھی ہوئے۔آج گاندربل میں محاصرے اور گھرگھرتلاشی کی آڑ میں ایک کشمیری کو شہید کردیاگیا اور گذشتہ 48 گھنٹوں میں شہید کشمیریوں کی تعداد 4 ہوگئی ہے۔
راجیہ سبھا میں کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کا بل پیش کرنے سے قبل ہی صدارتی حکم نامے کے ذریعے کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کردی اورمقبوضہ کشمیر کو وفاق کے زیرِ انتظام دو حصوں یعنی یونین ٹیریٹریز میں تقسیم کردیا جس کے تحت پہلا حصہ لداخ جبکہ دوسرا جموں اور کشمیر پر مشتمل ہوگا۔ بھارت نے یہ دونوں بل لوک سبھا سے بھی بھاری اکثریت کے ساتھ منظور کرالیے ہیں۔
واضح رہے کہ بھارتی آئین کا آرٹیکل 370 مقبوضہ کشمیر میں خصوصی اختیارات سے متعلق ہے۔آرٹیکل 370 ریاست مقبوضہ کشمیر کو اپنا آئین بنانے، اسے برقرار رکھنے، اپنا پرچم رکھنے اور دفاع، خارجہ و مواصلات کے علاوہ تمام معاملات میں آزادی دیتا ہے۔بھارتی آئین کی جو دفعات و قوانین دیگر ریاستوں پر لاگو ہوتے ہیں وہ اس دفعہ کے تحت ریاست مقبوضہ کشمیر پر نافذ نہیں کیے جا سکتے۔
بھارتی آئین کے آرٹیکل 370 کے تحت کسی بھی دوسری ریاست کا شہری مقبوضہ کشمیر کا شہری نہیں بن سکتا اور نہ ہی وادی میں جگہ خرید سکتا ہے۔یکم نومبر2019 سے بھارتی شہریوں کو مقبوضہ کشمیر میں جائیداد خریدنے اور وہاں رہنے کا حق بھی حاصل ہو گیا ہے۔
