امریکہ نے فلسطین میں مغربی کنارے پرتعمیرکردہ اسرائیلی بستیوں پر اپنا مؤقف تبدیل کرتے ہوئے انھیں قانونی قرار دے دیا ہے اور اس سلسلے میں ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے اعلان کیا گیا ہےکہ مغربی کنارے پر اسرائیل کی جانب سے تعمیر کردہ یہودی بستیاں عالمی قوانین کے برخلاف نہیں۔
اس اقدام کی وضاحت کرتے ہوئے امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے کہا کہ تمام فریقین کی طرف سے ایک محتاط مطالعے اور قانونی بحث کے بعد ٹرمپ انتظامیہ اس بات پر متفق ہےکہ مغربی کنارے پر بسائی جانے والی اسرائیلی یہودی بستیاں عالمی قوانین کے برخلاف نہیں ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ٹرمپ انتظامیہ 1978کے محکمہ خارجہ کے اس قانونی نقطہ نظر کی پابند نہیں ہے جس میں کہا گیا تھا کہ مغربی کنارے پر آبادکاری عالمی قوانین سے مطابقت نہیں رکھتی۔ اسرائیلی وزر اعظم بنیا مین نیتن یاہو نے امریکہ کے اس اقدام کی تعریف کی اور کہا کہ امریکہ نے تاریخی غلطی کو درست کیا ہے۔
واضح رہے کہ امریکہ کے مؤقف کی تبدیلی پر فلسطینی بائیں بازؤوں کے گروپوں اور سیاسی رہنماؤں نے شدید تنقید کی ہے۔
فسلطینی صدر محمود عباس کے ترجمان کا کہنا تھاکہ امریکی حکومت کا فیصلہ مکمل طور پر عالمی قوانین کے برعکس ہے۔ واشنگٹن کو اس بات کا اختیارنہیں ہےکہ وہ عالمی قانون کی قرادادوں کو منسوخ کرے جب کہ امریکہ کے پاس یہ اختیاربھی نہیں کہ وہ اسرائیلی آبادکاری کو قانونی قرار دے۔
دوسری جانب امریکی اعلان پر اردن کے وزیر خارجہ نے اپنے رد عمل میں خبردار کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ کے مؤقف کی تبدیلی کے مشرق وسطیٰ کے امن عمل کی بحالی پر خطرناک نتائج برآمد ہوں گے۔
