بھارت میں متنازع شہریت ترمیمی بل کے نفاذ کے بعد امن و امان کی بگڑتی ہوئی صورتحال پر چینی اخبار ساؤتھ چائنا مارننگ پوسٹ نے تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ بھارتی وزیر اعظم مودی نے شہریت ترمیمی بل کے ذریعے خود اپنے ملک کے خلاف ہی جنگ چھیڑ دی ہے۔
ساؤتھ چائنا مارننگ پوسٹ کے مطابق بھارت کی معیشت مسلسل زوال پذیر ہے۔ اسے سنبھالا دینے کی بجائے مودی حکومت نے شہریت ترمیمی بل کے ذریعے ایسا اقدام کیا ہے جو سیکولر ازم پر مبنی بھارتی آئین کے یکسر منافی اور جرمنی میں نازی دور کی کارروائیوں سے مشابہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ نہ صرف آسام اور متعدد شمال مشرقی ریاستوں میں عوام کے احتجاج میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے بلکہ تین ریاستوں پنجاب، بنگال اور کیرالہ نے متنازع ترمیمی بل پر عملدرآمد سے انکار کر دیا ہے۔
چینی اخبار کے مطابق عالمی ریٹنگ ایجنسی سٹینڈرڈ اینڈ پوور نے خبردار کیا ہے کہ اگر بھارت کی معیشت میں بہتری کے شواہد نہ ملے تو بھارت کو جنک گریڈ ریٹنگ میں ڈال دیا جائے گا ۔ بھارت میں بچوں کی ناقص غذائیت کی شرح بہت زیادہ ہے ۔ 6 ماہ سے 23 ماہ تک کی عمر کے بچےشدید ؑژآئی قلت کا شکار ہیں ۔ مودی حکومت ان بنیادی مسائل کو حل کرنے کی بجائے ایسے معاملات میں پھنس گئی ہے جن سے سوائے نقصان کے کچھ بھی حاصل نہیں ہوگا
شہریت ترمیمی بل کی طرح نیشنل رجسٹر آف سٹیزنز میں ناموں کا اندراج بھی ایک متنازعہ مسئلہ ہے۔ مودی حکومت کا موقف ہے کہ بڑی تعداد میں غیر قانونی تارکین وطن کی بھارت آمد کو روکنے کے لئے اس سکیم (رجسٹر ) کے تحت شہریوں کا اندراج بہت ضروری ہے لیکن مودی اس بات کا جواب نہیں دے سکے کہ اس وقت تو کسی بھی ملک سے بڑے پیمانے پر غیر قانونی تارکین وطن کے بھارت آنے کا کوئی امکان نہیں تو پھر نیشنل رجسٹر آف سٹیزنز کا مسئلہ کیوں کھڑا کر دیا گیا ہے ؟ حالانکہ اس کے نتیجے میں بھارتی قوم مزید تقسیم اور انتشار کا شکار ہوجائے گی، بھارت کے انسان دوست حلقوں نے برملا یہ کہنا شروع کر دیا ہے کہ مودی حکومت کے یہ اقدامات مسلمانوں کے خلاف ہیں۔
