جمعہ, ستمبر 25 Live
Shadow

مسلمان اور يہودی رہنماؤں کا آؤشوٹس کا مشترکہ تاریخی دورہ

پولینڈ میں سابقہ نازی دور کے اذیتی کيمپ آؤشوٹس میں مسلم ورلڈ لیگ کےرہنماؤں کے ایک وفد نے پہلی مرتبہ وہاں کے یہودی رہنماؤں کے ساتھ مشترکہ دعائیہ تقریب میں شرکت کی۔ مسلم اور یہودی رہنماؤں کی یہ دعائیہ تقریب آؤشوٹس کے سابقہ اذیتی کيمپ کی آزادی کے 75 برس مکمل ہونے کے موقع پر منعقد ہوئی۔ دونوں مذاہب کے رہنماؤں نے اس دورے کو تاریخی قرار دیا ہے۔ مسلم رہنماؤں نے اس دورے کو ایک ’مقدس فریضہ اور غیر معمولی اعزاز‘ بھی قرار دیا۔ 

دونوں مذاہب کے رہنما جمعرات کے روز سابقہ نازی دور کے اس اذیتی کيمپ پہنچے۔ اس دورے کی قیادت مسلم ورلڈ لیگ کے رہنما محمد بن عبدالکریم العیسی اور امریکن جیوش کمیٹی کے چیف ایگزیکیٹو ڈیوڈ ہیرس کر رہے تھے۔ مسلم ورلڈ لیگ دنیا بھر میں ایک بلین مسلمانوں کی نمائندہ تنظيم ہے۔

خیال رہے آؤشوٹس کے سابقہ اذیتی کيمپ میں نازیوں نے 1.1 ملین افراد کو قتل کیا تھا جن کی بھاری اکثریت یہودیوں پر مشتمل تھی۔ اس اذيتی کيمپ ميں قتل کر دیے جانے والے افراد کے رشتہ دار اور دنیا بھر سے سينکڑوں لوگ 27 جنوری کو سوویت فورسز کے ہاتھوں آؤشوٹس اذیتی کیمپ کی آزادی کی یادگار منانے کے لیے وہاں جمع ہو رہے ہيں۔
خیال رہے کہ اس سے قبل مئی 2018ء میں محمد العیسٰی نے واشنگٹن میں یو ایس ہولوکاسٹ میوزم کا دورہ کرنے کے بعد میوزیم کو ایک خط بھیجا تھا، جس میں انہوں نے لکھا تھا، ”ہولوکاسٹ کو جھٹلانے یا اس کی تاریخی اہمیت میں کمی کی کوئی بھی کوشش بے گناہ متاثرین کی توہین کے مساوی ہے۔ اسلام ایسے جرائم کے مکمل خلاف ہے۔“ انہوں نے بعد میں ایک مضمون بھی لکھا جس میں تمام مسلمانوں کو تلقین کی تھی کہ وہ ہولوکاسٹ کی تاریخ پڑھیں اور اس ہولناک تاریخی واقعے سے متعلق یادگاری مقامات اور میوزیمز کا دورہ کریںۡ۔ اس کے جواب میں ورلڈجیوش کانگریس نے کہا تھاکہ اب بھی یہ جھوٹا اور غلط تاثر پایا جاتا ہے کہ مسلمان یہودیوں کے خلاف ہیں یا ان کے حوالے سے جارحانہ سوچ رکھتے ہیں۔ اس کے برخلاف جہاں کہیں بھی یہودیوں پر حملہ ہوتا ہے، مسلمان افراد کھل کر اس کے خلاف بولتے ہیں اور اس کی مذمت کرتے ہیں۔

محمد العیسی کا کہنا تھا، ”یہ جرائم بلا شبہ غیر معمولی تھے اور ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ درحقیقت یہ انسانیت کے خلاف جرائم تھے، یہ تمام بندگان خدا کی توہین ہے۔“

دوست و احباب کو تجویز کریں

تبصرہ کریں