پاکستان کےوزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہےکہ امریکی وزیرخارجہ مائیک پومپیو کو خبردار کردیا ہے کہ افغان امن عمل کو نقصان پہنچانے والوں پر نظر رکھناہوگی۔اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ پاکستان اس معاہدے کو امن کی جانب اہم قدم سمجھتا ہے۔ معاہدے کے بعد افغان قیادت کا امتحان شروع ہوگیا ہے اور امن عمل پر اعتماد برقرار رکھنے کے لیے ضروری ہے کہ بین الافغان مذاکرات میں تاخیر نہ کی جائے۔ان کا کہنا تھا کہ دونوں جانب سے قیدیوں کی رہائی سے اعتماد بڑھے گا، امید ہے افغان صدر اشرف غنی اس معاہدے کی اہمیت کو سمجھیں گے۔
وزیر خارجہ نے مزید کہاکہ ہم نہیں چاہتے کہ افغانستان کی اندرونی سیاست امن میں رکاوٹ بن جائے، پائیدار امن کا فیصلہ افغانیوں نے خود کرنا ہے۔ طویل جنگ کے بعد اب افغانستان کے عوام بھی امن چاہتے ہیں۔ان کا کہنا ہے کہ معاہدے سے افغان دھڑوں میں مذاکرات کی راہ ہموار ہوئی ہے۔ گزشتہ سالوں میں افغانستان میں پرتشدد کارروائیوں میں کمی آئی ہے۔ہمیں دیکھنا ہوگا کہ معاہدے پر عمل سے متعلق کتنی سنجیدگی دکھائی جاتی ہے اورکیا قیادتیں بھی آگے بڑھنے کے لیے تیار ہیں اور کس حد تک تیار ہیں؟
ان کا کہنا تھا کہ منفی کردار ادا کرنے والوں کی نشاندہی اور ان کے خلاف کارروائی دونوں کی ضرورت ہے، قیدیوں کی رہائی اور ان کے گھروں تک واپسی پر ہمیں مذاکرات کرنا ہوں گے۔
خیال رہے کہ گزشتہ روز قطر کے دارالحکومت دوحہ میں امریکہ اور افغان طالبان کے درمیان 18 سالہ طویل جنگ کے خاتمے کے لیے فریقین نے تاریخی امن معاہدے پر دستخط کر دیے ہیں۔دوحہ امن معاہدے کے تحت افغانستان سے امریکی اور نیٹو افواج کا انخلا آئندہ 14 ماہ کے دوران ہوگا جب کہ طالبان کو یہ ضمانت دینی ہے کہ افغان سرزمین القاعدہ سمیت دہشت گرد تنظیموں کے زیر استعمال نہیں آنے دیں گے۔
