گزشتہ روز قطر میں امریکہ اور طالبان کے مابین افغان امن معاہدے پر دستخط کی تقریب ہوئی تھی جس میں 50 ممالک کے سفرا اور دیگر اہم شخصیات نے شرکت کی تھی۔
امن معاہدے پر امریکہ کے معاون خصوصی برائے افغان امن عمل زالمے خلیل زاد اور طالبان کے سیاسی سربراہ ملا عبدالغنی برادر نے معاہدے پر دستخط کیے تھے اور اس موقع پر امریکہ کے سیکریٹری آف اسٹیٹ مائیک پومپیو بھی موجود تھے۔
معاہدے سے متعلق منعقدہ تقریب کے موقع پر ملا برادر نے ناروے، ترکی اور ازبکستان کے وزرائے خارجہ سے ملاقات کی تھی، اس کے علاوہ انہوں نے روس، انڈونیشیا اور دیگر پڑوسی ممالک کے سفرا سے بھی ملاقات کی تھی۔
چار صفحات پر مشتمل افغان امن معاہدہ 4 مرکزی حصوں پر مشتمل ہے۔
طالبان افغانستان کی سرزمین کسی بھی ایسی تنظیم، گروہ یا انفرادی شخص کو استعمال کرنے نہیں دیں گے جس سے امریکا یا اس کے اتحادیوں کو خطرہ ہوگا۔
افغانستان سے امریکی اور اس کے اتحادیوں فوجیوں کا انخلا یقینی بنایا جائےگا۔
طالبان 10مارچ 2020 سے انٹرا افغان مذاکرات کا عمل شروع کریں گے۔
انٹرا افغان مذاکرات کے بعد افغانستان میں سیاسی عمل سے متعلق لائحہ عمل طے کیا جائے
