ماسکو نے تیل کی پیداوار میں اضافی کٹوتیوں کے حوالے سے اوپیک کی حمایت کرنے سے انکار کر دیا ہے اور کہا ہے کہ وہ صرف موجودہ کٹوتیوں میں توسیع کرنے پر رضامند ہوگا ، روسی خبر رساں ادارے ٹی اے ایس ایس نے اپنے ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ روس نے جمعہ کے روز ویانا میں غیر رسمی مشاورت کے دوران اضافی پیداوار میں کٹوتیوں پر کسی بھی پیش کش کو مسترد کردیا ہے۔
واضح رہے کہ ماسکو طویل عرصے سے یہ اشارہ دے رہا ہے کہ وہ موجودہ معاہدے میں توسیع کی حمایت کرے گا لیکن نئی کٹوتی نہیں۔ ایرانی وزیر تیل بیجن زنگانے ، جن کا ملک اوپیک کا رکن ہے لیکن اسے کسی بھی قسم کی روک تھام سے استثنیٰ حاصل ہے ، نے کہا کہ اوپیک ابھی بھی روس اور دیگر اوپیک ریاستوں کے ساتھ معاہدے تک پہنچنے کے لئے کام کر رہا ہے۔
یاد رہے کہ اوپیک نے جمعرات کو اس سال کی دوسری سہ ماہی میں اس کی پیداوار میں 15 لاکھ بیرل روزانہ (بی پی ڈی) کٹوتی کرنے پر اتفاق کیا ہے لیکن صرف اس صورت میں کہ اگر روس بھی اس میں شامل ہوجائے. آئل کارٹیل اور اس کے اتحادیوں کا مقصد بھی ہے کہ 2020 کے اختتام تک اس ماہ میں ختم ہونے والی 2.1 ملین بی پی ڈی کی موجودہ کٹوتیوں کو برقرار رکھیں۔ کوویڈ 19 کی وباء سے تیل کی طلب کو سخت نقصان پہنچا ہے جس کے باعث اس سال خام تیل کی قیمتیں 20 فیصد گر گئیں۔
