جمعرات, اکتوبر 29 Live
Shadow

گینٹس اور نیتن یاہو حکومت سازی میں ناکام۔ کیا اسرائیلی عوام پھر سے انتخابات کے لیے تیار ہیں؟

اسرائیل کی دو اہم سیاسی جماعتوں نیتن یاہو کی لیکوڈ اور بینی گینٹس کی بلیو اینڈ وہائٹ پارٹی کے درمیان اقتدار کی کشمکش ابھی تک جاری ہے۔ دونوں جماعتیں مقررہ وقت یعنی بدھ کی نصف شب سے پہلے اتحادی حکومت کے سلسلے میں کسی معاہدہ پرنہیں پہنچ سکیں جس سے ملک میں 2019کے بعد سے چوتھی مرتبہ انتخابات ناگزیر دکھائی دے رہے ہیں۔مقامی میڈیا کے مطابق مقررہ وقت ختم ہوجانے کے باوجود لیکوڈ پارٹی اوربلیو اینڈ وہائٹ پارٹی کے درمیان صلاح و مشورہ جاری ہے۔

واضح رہے کہ اسرائیلی صدر ریوین ریولین نے ان خبروں کے بعد کہ دونوں پارٹیوں کے درمیان بات چیت میں ’اہم پیش رفت‘ ہورہی ہے اسرائیلی پارلیمان کے اسپیکر بینی گینٹس اور وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہوکو کسی حتمی فیصلے تک پہنچنے کی مدت میں 48 گھنٹے کی توسیع کردی تھی۔ لیکن مقررہ وقت ختم ہوجانے کے باوجود نہ تو گینٹس کی بلیو اینڈ وہائٹ پارٹی نے اور نہ ہی نیتن یاہو کی لیکوڈ پارٹی نے کسی معاہدے پر پہنچنے کے حوالے سے اعلان کیا۔ اسرائیلی میڈیا کی خبرو ں کے مطابق مقررہ وقت گزر جانے کے باوجود دونوں جماعتیں ابھی تک کسی معاہدے کے سلسلے میں بات چیت ہی کررہی ہیں۔

 واضح رہے کہ اگر دونوں جماعتیں اتحادی حکومت قائم کرنے میں ناکام رہتی ہیں توملکی قانون کے مطابق اسرائیلی پارلیمان کو 21 دنوں کے اندر حکومت کی تشکیل کے لیے کسی امیدوار کو منتخب کرنا ہوگا جبکہ اتنے محدود وقت میں کسی متفقہ فیصلے کی امید بہت کم ہے۔ اگر پارلیمان کوئی امیدوار منتخب کرنے میں ناکام ر ہے، یا منتخب شخص 14 دنوں کے اندر حکومت سازی میں ناکام ر ہے تو اسرائیلیوں کو ایک بار پھر انتخابی مرحلے سے گزرنا ہو گا ۔

یاد ر ہے کہ نیتن یاہو کو جعل سازی، رشوت خوری او راعتماد شکنی جیسے الزامات کے تحت مقدمات کا بھی سامنا ہے۔کورونا سے پیدا شدہ حالات کے پیش نظر اسرائیل کی ایک عدالت نے ان کے خلاف مقدمے کے سماعت24مئی تک کے لیے ملتوی کردی ہے۔

اسرائیل میں کورونا وائرس کی وبا کے مدنظر سیاسی جماعتوں پر کسی معاہدہ پر پہنچنے کے لیے عوام کا دباؤ بڑھتا جارہا ہے۔کیوں کہ یہ امید کی جارہی ہے کہ اتحادی حکومت کے قیام کی صورت میں ملک میں کورونا وائرس سے پیدا شدہ بحران کا زیادہ مؤثر طور پر مقابلہ کیا جاسکے گا۔

دوست و احباب کو تجویز کریں

تبصرہ کریں