بدھ, اکتوبر 28 Live
Shadow

مقبوضہ مغربی کنارے کا اسرائیل سے الحاق کا منصوبہ مسترد کر تے ہیں ۔عرب لیگ

عرب لیگ نے مقبوضہ مغربی کنارے کے اسرائیل سے الحاق کا منصوبہ مسترد کردیا۔اطلاعات کے مطابق عرب لیگ نے مقبوضہ مغربی کنارے کے زیادہ تر حصوں سے متعلق اسرائیل کی متنازع تجویز کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ اقدام فلسطینیوں کے خلاف ’نیا جنگی جرم‘ ثابت ہوگا۔

الجزیرہ ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق مصر کے دارالحکومت قاہرہ میں منعقد عرب وزرائے خارجہ کی کانفرنس کے بعد جار ی ہونے والے مشترکہ بیان میں کہا گیا کہ وادی اردن سمیت 1967 میں مقبوضہ فلسطینی علاقوں کے کسی بھی حصے کو الحاق کرنے کے منصوبوں پر عمل درآمد اور جن زمینوں پر اسرائیلی آباد ہیں وہ سب فلسطینی عوام کے خلاف ایک نئے جنگی جرم کی نمائندگی کرتے ہیں۔عرب لیگ نے امریکہ پر زور دیا کہ وہ ’قابض اسرائیلی حکومت کے منصوبوں کو فعال کرنے میں اپنا تعاون ختم کرے۔

واضح رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جنوری میں کئی دہائیوں سے جاری اسرائیل اور فلسطین تنازع کے حل کے لیے منصوبہ پیش کیا تھا۔عرب لیگ کے اجلاس کے دوران فلسطین کے وزیر خارجہ ریاض المالکی نے کہا کہ الحاق سے ’دو ریاستوں کا وجود ختم ہوجائے گااورلڑائی کا رخ سیاسی محاذ سے ختم ہو کر نہ ختم ہونے والی مذہبی جنگ کی طرف موڑ دیا جائے گا جس سے ہمارے خطے میں کبھی بھی استحکام، سلامتی یا امن نہیں آئے گا‘۔

یاد رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مشرق وسطیٰ کے لیے امن منصوبے کے اعلان کے تحت یروشلم (بیت المقدس) اسرائیل کا ‘غیر منقسم دارالحکومت’ رہے گا جبکہ فلسطینیوں کو مشرقی یروشلم میں دارالحکومت ملے گا اور مغربی کنارے کو آدھے حصے میں نہیں بانٹا جائے گا۔فلسطینیوں نے ایسی کسی بھی تجویز کو مسترد کردیا تھا جو پورے مشرقی یروشلم کو فلسطین کا دارالحکومت نہ رہنے دے کیونکہ اس علاقے میں مسلمانوں، یہودیوں اور عیسائیوں کے مقدس مقامات موجود ہیں۔

تاہم امریکی صدر نے وائٹ ہاؤس میں کہا تھا کہ یروشلم، اسرائیل کا غیر منقسم دارالحکومت رہے گا۔امریکہ کی جانب سے پیش کردہ امن منصوبے میں مغربی پٹی میں اسرائیلی آباد کاری کو تسلیم کرلیا گیا تھا اور ساتھ ہی مغربی کنارے میں نئی بستیاں آباد کرنے پر 4 سال کی پابندی لگائی گئی۔فلسطینی اتھارٹی نے مشرق وسطیٰ کے لیے امریکہ کا متنازع امن منصوبہ مسترد کرتے ہوئے واشنگٹن اور اسرائیل سے سیکیورٹی کے امور سمیت تمام نوعیت کے تعلقات ختم کردیے تھے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے داماد اور مشیر جیرڈ کشنر نے کہا تھا کہ اگر فلسطین مشرق وسطیٰ کے نئے امن منصوبے کی شرائط کو نہیں مانتا تو اسرائیل اُسے ‘ریاست کے طور پر تسلیم کرنے کا خطرہ مول نہ لے’۔

واضح رہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ کے داماد اور مشیر کو ان کے سخت بیان پر تنقید کا سامنا رہتا ہے اس سے قبل انہوں نے فلسطین کے حوالے سے کہا تھا کہ فلسطین کا ریکارڈ رہا ہے کہ وہ مواقع کھو دیتا ہے اور اگر ڈونلڈ ٹرمپ کے پیش کردہ منصوبے سے انہوں نے دوبارہ لاپرواہی برتی تو انہیں بین الاقوامی برادری کا سامنا کرنے میں بہت مشکل ہوگی۔اس منصوبے میں امریکہ نے اسرائیل کو اسٹریٹجک اہمیت کی حامل وادی اردن کو ضم کرنے کی بھی منظوری دی جو مغربی کنارے کا 30 فیصد علاقہ ہے جبکہ دیگر یہودی بستیوں کے الحاق کی اجازت بھی شامل ہے۔

منصوبے کے جواب میں فلسطینی صدر محمود عباس نے اسرائیلی وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو کو اوسلو معاہدے کے تحت سلامتی تعاون سے دستبردار ہونے کا پیغام بھیجا تھا۔محمود عباس نے اسرائیلی وزیراعظم کو خبردار کیا تھا کہ اب فلسطین، اوسلو کے معاہدے پر عمل درآمد سے آزاد ہے۔

دوست و احباب کو تجویز کریں

تبصرہ کریں