Shadow
سرخیاں
بحرانی صورتحال: مغربی رہنما اپنے عوام سے مزید قربانیاں طلب کر رہے ہیں۔ایران جنگ ‘امریکی سلطنت کا خاتمہ’ ہے – ٹکر کارلسنبرطانوی شاہی بحریہ میں نشے اور جنسی زیادتیوں کے واقعات کا انکشاف، ترجمان کا تبصرے سے انکار، تحقیقات کی یقین دہانیتیونسی شہری رضا بن صالح الیزیدی کسی مقدمے کے بغیر 24 برس بعد گوانتانوموبے جیل سے آزادمغربی طرز کی ترقی اور لبرل نظریے نے دنیا کو افراتفری، جنگوں اور بےامنی کے سوا کچھ نہیں دیا، رواں سال دنیا سے اس نظریے کا خاتمہ ہو جائے گا: ہنگری وزیراعظمامریکی جامعات میں صیہونی مظالم کے خلاف مظاہروں میں تیزی، سینکڑوں طلبہ، طالبات و پروفیسران جیل میں بندپولینڈ: یوکرینی گندم کی درآمد پر کسانوں کا احتجاج، سرحد بند کر دیخود کشی کے لیے آن لائن سہولت، بین الاقوامی نیٹ ورک ملوث، صرف برطانیہ میں 130 افراد کی موت، چشم کشا انکشافاتپوپ فرانسس کی یک صنف سماج کے نظریہ پر سخت تنقید، دور جدید کا بدترین نظریہ قرار دے دیاصدر ایردوعان کا اقوام متحدہ جنرل اسمبلی میں رنگ برنگے بینروں پر اعتراض، ہم جنس پرستی سے مشابہہ قرار دے دیا، معاملہ سیکرٹری جنرل کے سامنے اٹھانے کا عندیا

ڈاکٹرز میری موت کے اعلان کیلیے تیار تھے‘ کورونا سے صحتیاب برطانوی وزیراعظم کا انکشاف

چند دن پہلے کورونا وائرس سے صحت یاب ہونے والے برطانوی وزیراعظم بورس جانسن نے انکشاف کیا ہے کہ کورونا کی وجہ سے ڈاکٹرز ان کی موت کے لیے تیار تھے۔یہ ایک تلخ لمحہ تھا جس کی تردید نہیں کی جا سکتی ۔

برطانوی اخبار کو انٹرویو دیتے ہوئے بورس جانسن نے کہا کہ میں نےکسی بھی مرحلے پر یہ نہیں سوچا کہ مرنے والا ہوں۔ اسپتال میں وینٹی لیٹرپر بھی رکھا گیا مگر پریشانی صرف یہ تھی کہ طبیعت کیوں بحال نہیں ہو رہی۔بہر حال اس تجربے نے بیماری سے لڑنے اور ملک کو معمول پر لانے کے لیے زیادہ پرعزم بنا دیا ہے۔

بورس جانسن کا کہنا تھا کہ  علاج کرنے والے ڈاکٹروں کے پاس ایسی حکمت عملی تھی کہ اگر سابق سوویت رہنما اسٹالن کی طرح ان کا اچانک انتقال ہو جائے تو کیا کرنا ہے۔ 

یاد رہے کہ 27 مارچ کو برطانوی وزیراعظم کے کورونا وائرس کے ٹیسٹ کی رپورٹ مثبت آئی تھی جس کے بعد وہ ڈاؤننگ اسٹریٹ میں واقع اپنی سرکاری رہائش گاہ پر ہی آئسولیشن میں چلے گئے تھے اور وہیں سے سرکاری امور دیکھ رہے تھے۔ایک ہفتے بعد7 اپریل کو ان کی حالت مزید خراب ہوئی تو انہیں اسپتال داخل کیا گیا جہاں انہیں انتہائی نگہداشت کے شعبے (آئی سی یو) منتقل کیا گیا تھا۔

برطانوی وزیراعظم کو 12 اپریل کو اسپتال سے ڈسچارج کر دیا گیا تھا جس کے بعد وہ مکمل صحت یابی کے لیے اپنی رہائش گاہ میں ہی موجود تھے۔

دوست و احباب کو تجویز کریں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

1 × 3 =

Contact Us