جمعرات, October 1 Live
Shadow

چین کی ابھرتی طاقت کا خوف: امریکہ کے بعد برطانیہ نے بھی ہواوے پر پابندی عائد کر دی

مغربی ممالک پر چین کی طاقت کا بھوت سر چڑھ کر بول رہا ہے۔ امریکہ اور کینیڈا کے بعد برطانیہ نے بھی چینی  ٹیکنالوجی کمپنی ہواوے پر پابندی عائد کر دی ہے۔ ان حرکتوں سے صرف لبرل خیالات پر مبنی مغربی ممالک کی منافقت عیاں ہورہی ہے جس کے تحت وہ پوری دنیا میں آزاد مارکیٹ کا پرچار کرتے رہے اور عرصہ دراز تک دنیا کو من چاہے انداز میں  لوٹنے کا سلسلہ  جاری  رکھا  اور اب  صرف ایک مدمقابل سامنے آنے پر ایسے بھونڈے  ہتھ کنڈوں پر اتر آئے ہیں کہ جگ ہنسائی کے سوا کچھ نہیں بچا۔

برطانوی نشریاتی ادارے کے مطابق برطانیہ میں موبائل فون کے کاروبار سے وابستہ کمپنیوں کو پابند کر دیا گیا ہے کہ وہ 31 دسمبر 2020 کے بعد سے چینی کمپنی ہواوے کی فائیو جی ٹیکنالوجی نہیں خرید  سکیں گی۔ اور تو اور موبائل فون کمپنیاں 2027 تک اپنے نیٹ ورکس سے تمام چینی کمپنیوں کی فائیو جی کٹ کو ہٹانے کی پابند بھی ہوں گی۔

برطانیہ کے ڈیجیٹل سیکرٹری اولیور ڈاؤڈین نے پارلیمان کو اس حکومتی فیصلے سے آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کے اس اقدام سے ملک میں ایک سال سے پہلے فائیو جی کا آغاز تاخیر کا شکار ہوگا تاہم یہ  کرنا ملکی سلامتی کے لیے ضروری تھا۔  اور ایسا امریکا کی جانب سے چین پر پابندیوں کے بعد کیا گیا ہے۔ مزید تفصیلات بتاتے ہوئے برطانوی ڈیجیٹل سیکرٹری نے کہا کہ ہواوے پر پہلے سے عائد پابندیوں اور اب کے حکومتی اقدامات کی مجموعی لاگت 2 ارب برطانوی پاؤنڈ تک ہوگی، فیصلہ آسان نہیں تھا لیکن مواسلات کا شعبہ ہماری قومی سلامتی اور معیشت کے لیے اہم ہے۔

اس موقع پر امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے ردعمل میں کہا ہے کہ وہ برطانوی حکومت کے فیصلے کا خیر مقدم کرتے ہیں، فیصلے سے برطانیہ ان ملکوں کی فہرست میں شامل ہوگیا ہے جو اپنی قومی سلامتی کے لیے فکر مند ہیں۔

دوسری جانب برطانوی حکومت کے فیصلے پر ہواوے نے اپنے رد عمل میں کہا ہےکہ یہ برطانیہ میں موبائل فون رکھنے والے ہر شہری کے لیے بری خبر ہے، دنیا تیز رفتار انٹرنیٹ کی طرف تیزی سے بڑھ رہی ہے  اور برطانوی سست روی کو اپنا رہی ہے۔ کمپنی نے مزید کہا ہےکہ حکومتی فیصلہ صارفین کو ہواوے کے اسمارٹ فون خریدنے سے نہیں روکتا۔

برطانیہ میں تعینات چینی سفیر نے بھی برطانوی حکومت کے فیصلے کو مایوس کن اور غلط قرار دیتے ہوئے کہا کہ برطانوی پارلیمان کا فیصلہ آزاد مارکیٹ کے اصول پر ایک سوالیہ نشان ہے۔ برطانیہ کیسے دوسرے ممالک میں آزادی اور اپنے ملک میں امتیازی کاروباری ماحول پیدا کر سکتا ہے۔

دوست و احباب کو تجویز کریں

تبصرہ کریں