جمعرات, اکتوبر 22 Live
Shadow

صدر ٹرمپ کے خلاف لبرلوں کے بھونڈے ہتھکنڈے جاری: پراپیگنڈہ سےبھری ایک اور کتاب شائع

آئندہ صدارتی انتخابات کے لیے امریکہ میں غیر اعلانیہ انتخابی مہم جاری ہے، جس میں گزشتہ انتخابات کی طرح اس بار بھی امیدواروں کی نجی کردار کشی کا سلسلہ زوروں پر نظر آرہا ہے۔ جس کا خصوصاً شکار دبنگ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ہوتے ہیں۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ریپبلکن جماعت کے صدارتی امیدوار ہیں جن کے خلاف ڈیموکریٹ نے گزشتہ انتخابات میں بھی کردار کشی کی شدید مہم چلائی تاہم معاشی بدحالی اور لبرل طبقے کی جنگی جنونیت سے تنگ امریکی عوام نے صدر ٹرمپ کو ملک کا صدر منختب کیا۔ صدر ٹرمپ نے بھی عوامی امنگوں پر پورا اترتے اور اپنے انتخابی وعدوں کی پاسداری کرتے ہوئے ملک کو معاشی بدحالی سے نکالا، ملک میں لاکھوں ملازمتوں اور نئے کاروبار کا بندوبست کیا اور عالمی سطح پر بھی اہم اور مشکل فیصلے کیے۔ صدر ٹرمپ نے نہ صرف مختلف مسلم ممالک مثلاً افغانستان اور مشرق وسطیٰ میں عراق اور شام کی طویل ہوتی جنگوں کے خاتمے کی داغ بیل ڈالی بلکہ مشرق بعید میں بھی جاری تنازعات کو حل کرنے میں مثبت کردار ادا کیا۔ اور تو اور چین کے ساتھ جاری تجارتی جنگ کو بھی بات چیت سے حل کرنے کی مرحلہ وار کوششیں تاحال جاری ہیں۔

اس سب کے جواب میں جنگی جنون اور عالمی اجارہ داری کو جاری رکھنے کی حامل امریکی اسٹیبلشمنٹ اور میڈیا صدر ٹرمپ کو بدنام کرنے اور نجی نوعیت کے حملوں سے نقصان پہنچانے کی بھونڈی کوششوں کو جاری رکھے ہوئے ہیں، اسی سلسلے میں صدر کی بھتیجی کو استعمال کرتے ہوئے ایک کتاب شائع کروائی جا رہی ہے جس میں صدر کو دھوکے باز، بدمعاش اور آوارہ گرد طرز کا شخص پیش کیا گیا ہے۔ ان کی کوشش اس بار بھی بظاہر کامیاب ہوتی نظر نہیں آتی کیونکہ امریکی نفسیات میں انہیں نجی معاملات اور کسی حد تک آزادی کی علامت سمجھا جاتا ہے۔ یعنی جس آزادی کا پرچار مغربی لبرل طبقہ کرتا اور دیگر دنیا پر تھوپتا رہا ہے اب اسی کے وار خود برداشت نہیں کر پا رہا۔ تاہم چونکہ لبرل طبقے کے پاس دوسرا کوئی چارہ نہیں لہٰذا ان بھونڈی کوششوں کا سلسلہ جارہ رہنے کی توقع رکھنی چاہیے۔

یہی وجہ ہے کہ 2016 کے انتخابات کے دوران چینی میڈیا نے امریکی انتخابی مہم پر اداریہ لکھتے ہوئے لکھا تھا کہ یہ مغربی جمہوریت کا اصل چہرہ ہے۔

دوست و احباب کو تجویز کریں

تبصرہ کریں