اتوار, اکتوبر 25 Live
Shadow

لیبیا خانہ جنگی میں حالات کشیدہ – ترکی کے بعد مصر بھی فوج اتارنے کو تیار: مسلم ممالک میں ٹکراؤ کا خطرہ

 لیبیا میں 2011 میں نیٹو کی فوجی مداخلت نے ملک کے معروف حکمران معمر قذافی کا تحتہ تو الٹ دیا تاہم 9 سال گزرنے کے باوجود ملک کی سیاسی و دفاعی صورتحال دگرگوں ہے۔ لیبیا میں اس وقت دو متوازی حکومتیں قائم ہیں۔ بڑے قومی اتحاد (جی این او) کو ترکی، اٹلی اور قطر کے ساتھ ساتھ غیر اعلانیہ طور پر کسی حد تک روس کے علاوہ دیگرعالمی طاقتوں اور اداروں کی حمایت حاصل ہے جبکہ خلیفہ حفتر کی قیادت میں لیبیا کی قومی فوج (ایل این اے) کو بڑی عالمی طاقتوں کی حمایت تو حاصل نہیں تاہم روس، متحدہ عرب امارات اور دیگر عرب ممالک اس گروہ کی سرپرستی کر رہے ہیں۔

چند ماہ قبل ترکی، قطر اور اٹلی کے حمایت یافتہ گروہ نے ترک فوج کی براہ راست مداخلت سے خانہ جنگی کا پانسہ پلٹا تو مخالف گروہ کی جانب سے تشویش کا اظہار سامنے آیا۔ تاہم کسی قسم کی سنوائی نہ ہونے پر بالآخر مصر نے میدان میں کودنے کا فیصلہ کر لیا ہے اور قومی پارلیمان میں اپنے مفادات اور قومی سلامتی کو مدنظر رکھتے ہوئے ہمسایہ ملک میں ممکنہ فوجی مداخلت کی منظوری دیدی ہے۔

مصری صدر السیسی لیبیا میں فوجی مداخلت کی پہلے ہی دھمکی دے چکے ہیں، اور انہوں نے عالمی اداروں سمیت علاقائی اور عالمی طاقتوں سے بھی اس دوران اپیل کی تھی کہ امن عمل کے لیے مذاکرات اور جنگ بندی کا معاہدہ کیا جائے تاہم مخالف گروہ کی جانب سے بڑھتی پیش قدمی کے بعد مصرنے انتہائی اقدام اٹھاتے ہوے ترکی کی طرز پر سرحد سمیت براہ راست فوجی مداخلت کا عندیا دے دیا ہے۔

مصر کے اس اقدام سے دو مسلمان ملکوں، مصر اور ترکی میں براہ راست ٹکراؤ کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔

مصری ذرائع ابلاغ کے مطابق ایوان نمائندگان کے ایک اجلاس میں عسکری اداروں کی جانب سے پیش کردہ معلومات کے مطابق ملک کی مغربی سرحد پر جرائم پیشہ ملیشیا اور بیرونی دہشت گردوں کا نیٹ ورک مظبوط ہو رہا ہے، جو ملکی سلامتی کے لیے خطرہ ہو سکتے ہیں، لہٰذا خطرے سے نمٹنے کے لیے فوج کو تعینات کرنا ناگزیر ہے۔

مصر کی جانب سے جاری کردہ سرکاری بیان میں فی الحال لیبیا میں فوج کشی تذکرہ نہیں کیا گیا تاہم دفاہی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ مصری فوج کا یہ کہنا کہ قومی سلامتی کے دفاع کے لیے کسی بھی حد سے گزر جائیں گے، اس بات کا عندیا ہے کہ مصر براہ راست ٹکراؤ کے لیے بھی تیار ہے۔

مصری ذرائع ابلاغ کے مطابق لیبیا میں خانہ جنگی کا ماحول ہے اور اس بالواسطہ جنگ میں ترکی ایک دھڑے کی بھرپور حمایت کرتے ہوئے ٹکراؤ کا ماحول بنا رہا ہے۔ مصری صدر السیسی گزشتہ ہفتے کہہ چکے ہیں کہ لیبیا کا ساحلی شہر سیرت سرخ لکیر ہے اور اگر مخالف گروہ نے اس شہر پر حملہ کیا تومصر فوجی مداخلت کرے گا۔

ترکی کے حمایت یافتہ گروہ کے طرابلس پر دوبارہ مکمل کنٹرول حاصل کرنے کے بعد خلیفہ حفتر کے گروہ کو مشرقی شہر سیرت تک پیچھے دھکیل دیا گیا ہے۔ سیرت معمر قذافی کا آبائی شہر ہے جو مصر کی سرحد سے تقریبا آٹھ سو کلو میٹر کے فاصلے پر واقع ہے اور لیبیا کے قیمتی تیل کی سپلائی کا اہم ذریعہ مانا جاتا ہے۔

مصری پارلیمان میں قرارداد کی منظوری سے قبل مصر کے صدارتی دفتر نے ایک اہم بیان بھی جاری کیا جس میں کہا گیا کہ صدر عبدالفتاح السیسی نے اس معاملے پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے بات چیت کی ہے اور اس بات کی یقین دہانی کرائی ہے کہ وہ لیبیا میں سکیورٹی کی صورت حال کو مزید خراب نہیں ہونے دیں گے اور دونوں رہنماؤں نے مزید کشیدگی سے بچنے کے لیے جنگ بندی پر اتفاق کیا ہے۔

امریکہ فی الحال ترکی اور مصر دونوں کا اتحادی ہے اور اس نے اس معاملے میں کوئی واضح موقف اختیار کرنے کے بجائے ملے جلے اشارے دیے ہیں لیکن لیبیا میں روس کی موجودگی پر امریکہ اور دیگر مغربی ممالک کوبھی تشویش ہے جو 2011 میں انہی ممالک کے فوجی اتحاد نیٹو کی مداخلت کے نتیجے میں لیبیا میں داخل ہوا تھا۔

دوست و احباب کو تجویز کریں

تبصرہ کریں