بدھ, اکتوبر 21 Live
Shadow

عید پر قربانی کا گوشت کھائیں، مگر ایسے۔۔۔

ڈاکٹر آصف محمود جاہ – مہمان تحریر

عید الاضحی کا تہوار مسلمانوں کے لیے بڑا اہم ہے۔ استطاعت رکھنے والے مسلمان حج کے لیے جاتے ہیں اور اللہ کے حکم پر سنت ابراہیم کی پیروی کرتے ہوئے جانوروں کی قربانی کرتے اور انکا گوشت تقسیم کرتے ہیں۔ ایسے میں ہر امیر غریب کی خواہش ہوتی ہے کہ وہ عید پر قر بانی کا گوشت جی بھر کے کھائے۔

عیدکے دنوں میں ڈاکٹروں کے پاس مریضوں کا بھی رش ہوتا ہے۔ زیادہ تر مریض زیادہ گوشت کھانے کی وجہ سے بد ہضمی، تیزابیت، معدے میں جلن، پیٹ میں اپھارہ، قبض یا ڈائریاکا شکار ہو کر ڈاکٹروں کے پاس آتے ہیں۔ قربانی ہونے کے ساتھ ہی گھروں میں کلیجی پکائی جاتی ہے۔ قربانی کی کلیجی بہت لذیذ ہوتی ہے۔ مگر اسے کھاتے وقت احتیاط لازم ہے۔ ایک تو کلیجی بڑے اچھے طریقے سے پکی ہونی چاہیے۔ یہ بھی ذہن میں رکھیں کہ کلیجی سو فیصد کولسٹرول اور چربی پر مشتمل ہوتی ہے۔ اس لیے دل اور بلڈ پریشر کے مریض تو کلیجی کے قریب بھی نہ پھٹکیں۔ تاہم ذائقے کے لیے اور گھر میں دسترخوان کا حصہ بنا رہنے کے لیے ایک دو بوٹیاں لینے میں کوئی حرج نہیں۔

آج کل گرمی بھی ہے۔ حبس بھی ہے اس لیے قر بانی کا گوشت یا قربانی کی کلیجی کھانے کے بعد لیموں کا پانی ضرور لیں۔ اس سے کلیجی ہضم ہونے میں آسانی ہوتی ہے۔ زیادہ کلیجی کھانے سے پیٹ میں اپھارہ، بد ہضمی، تیزابیت اور قبض ہوسکتا ہے۔ اس لیے بہتر ہے کہ کلیجی کم سے کم کھائیں۔ دل کی بیماریوں میں مبتلا لوگ، ہائی بلڈ پریشرکے مریض یا جن مریضوں کی ماضی قریب میں انجیوپلائی ہوئی ہے یا دل کا بائی پاس آپریشن ہوا ہے وہ تو کلیجی کو ہاتھ تک نہ لگائیں۔

قربانی کا جانور بھی بہت دیکھ بھال کے لینا چاہیے۔ قربانی کے جانور کو چننے کے لیے پیغمبر اسلام نے بہترین ہدایات فرمائی ہیں، لہٰذا جانور ان مسائل کے مطابق اور قربانی کی روح کو مد نظر رکھتے ہوئے خریدیں، جانور بہترین اور صحت مند ہونا چاہیے۔ اچھی طرح تسلی کر لیں کہ جانور کے جسم پر کوئی زخم تو نہیں۔ جانوروں میں کانگووائرس انسانوں میں منتقل ہو کر جان لیوا ثابت ہو سکتا ہے۔ قربانی کے گوشت کا صیح استعمال ضروری ہے۔

قربانی کا فریضہ ادا کرنے والے لوگ ایک حصہ اپنے لیے رکھ سکتے ہیں مگر یہ نہیں ہونا چاہیے کہ اچھا اچھا گوشت خود رکھ لیا جائے یا اپنے قریبی عزیزوں کو بھیج دیا جائے اور غریبوں کے لیے صرف چربی والا گوشت یا چھیچھڑے رہ جائیں۔ بلکہ سارے گوشت کو ملا کر بہترین تقسیم کی جا سکتی ہے۔

فریج یا فریزر میں زیادہ دیر تک گوشت رکھنے سے اس کی غذائی افادیت ختم ہو جاتی ہے اور اس کے ساتھ ساتھ اس میں بیکٹیریا پیدا ہونے کا بھی خدشہ ہوتا ہے۔ قربانی کے جانور ذبح کرتے وقت اس بات کا خیال رکھیں کہ جانور کو صاف جگہ پر لٹایا جائے اور اس دوران صاف پانی استعمال کیا جائے۔ گوشت کاٹتے وقت بھی صفائی کا اہتمام ضروری ہے۔ گندے پانی کے استعمال سے گوشت میں گندے پانی سے ہونے والی بیماریوں ٹائیفائیڈ، ہیضہ، ڈائریا کے جراثیم منتقل ہو سکتے ہیں۔ قربانی کا گوشت کھاتے ہوئے مندرجہ ذیل احتیاط کو ملحوظ خاطر رکھ کر آپ بہت سی تکالیف سے بچ سکتے ہیں ۔

پہلا: قربانی کا گوشت پکاتے وقت اس بات کا خیال رکھیں کہ گوشت اچھی طرح صاف ہو اور صیح طور پر پکایا جائے۔ اگر گوشت گل نہ رہا ہو تو اس کے لیے سالن میں پپیتاڈال لیں۔ پپیتا میں اللہ نے صلاحیت رکھی اس سے گوشت گل بھی جائے گا اور لذیذ بھی بنے گا۔

دوسرا: صحت مند رہنے کا بنیادی اصول یہ ہے کہ ہمیشہ بھوک رکھ کر کھانا کھائیں۔ ایک حدیث مبارکہ کا مفہوم ہے کہ کھانا کھاتے وقت پیٹ کے تین حصے کر لیں۔ ایک کھانے کے لیے ایک پانی کے لیے اور تیسرا سانس کے لیے یا معدے کی حرکات کے لیے۔ اگر اس بات پر عمل کیا جائے تو بندہ کبھی پیٹ کے امراض مثلاً اپھارہ پن، السر، تیزابیت وغیرہ کا شکار نہیں ہوسکتا۔ اس لیے ضروری ہے کہ قربانی کا گوشت کھائیںضرور مگر احتیاط سے اور اعتدال کے ساتھ مناسب مقدار میں گوشت کھانے سے معدے پر کوئی بوجھ نہیں پڑتا۔

تیسرا: گوشت کھاتے ہوئے مختلف قسم کولااور دوسرے سوفٹ ڈرنکس سے اجتناب کریں۔ کھانے کے 15 منٹ بعد لیموں پانی استعمال کریں۔ اور اس کے علاوہ نمکین لسی بھی لے سکتے ہیں۔ اس سے گوشت ہضم ہونے میں آسانی ہو جاتی ہے۔

ترکی کے سفرکے دوران دیکھا کہ وہ گوشت خوب کھاتے ہیں مگر اس دوران سلاد، دھنیا، پودینہ، ٹماٹر، ہری مرچ اور پیاز کا خوب استعمال کرتے ہیں اور اس کے ساتھ ساتھ لسی کا بھی دور چلتاہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ گوشت کھاتے وقت سلاد اور لسی کا استعمال ضرور کریں۔ اس سے بدہضمی کا خدشہ نہیں رہتا۔

چوتھا: اعتدال کے ساتھ گوشت کھانے کے بعد کے 15 منٹ یا آدھ گھنٹہ بعد سونف، پودینہ، دار چینی اور الائچی ڈال کر قہوہ بنا کرلیں۔ اس سے گوشت ہضم ہونے میں آسانی ہوگی۔ پیٹ میں اپھارہ بھی نہیں ہوگا۔

پانچواں: گوشت کے سالن کے ساتھ تھوڑا سا اچار سلاد کے ساتھ لے لیا جائے تو اس سے کھانا آسانی سے ہضم ہو جاتا ہے۔

چھٹا: گوشت کھانے کے فوراََ بعد پیٹ درد، متلی قے آنے کی صورت میں فوراً ڈاکٹر یا قریبی ہسپتال سے رجوع کریں۔ زیادہ الٹیاں آنے کے صورت میں او آر ایس کا استعمال کریں اور ساتھ ساتھ لیموں پانی بھی لیں۔

ساتواں: قربانی کا گوشت اگر صحیح طور پر پکا ہوا نہ ہو تواسے بالکل استعمال نہ کریں۔ اچھی طرح پکا ہوا گوشت کھانے سے کوئی مسئلہ نہیں ہوتا۔

آٹھواں: قربانی کا گوشت کھاتے وقت اس بات کا ضرور خیال رکھیں کہ گوشت اعتدال کے ساتھ کھایا جائے تاکہ کسی قسم کی بد ہضمی نہ ہو۔

نواں: جتنا زیادہ گوشت آپ غریبوں کو دیں گہ۔ اتنا ہی آپ کی قربانی بارگاہ الٰہی میں زیادہ بار اور قبول ہوگی۔

دسواں: قربانی کا گوشت کھانے سے اگر قبض ہو جائے تو اس کے لیے اسپغول کا چھلکا اور دھی استعمال کریں۔ گوشت کے سالن میں دو چمچ زیتون کا تیل ملانے سے قبض کا خطرہ نہیں رہتا۔ اگر قبض ہو جائے تو صبح سویرے دو چمچ بھی زیتون کا استعمال کریں۔ زیادہ قبض کی صورت میں چار دانے تازہ انجیر رات ایک گلاس پانی میں بھگو کر رکھیں۔ اور صبح سویرے انھیں کھا لیں اور ساتھ وہی پانی پی لیں۔ انشاء اللہ قبض سے نجات مل جائیگی۔ اللہ تعالیٰ نے انجیر اور زیتون میں شفا رکھی ہے۔ ان کا باقاعدہ استعمال آدمی کو بہت سی بیماریوں سے بچاتا ہے۔

.گیارواں: اکثر لوگ زیادہ گوشت کھانے سے بد ہضمی کا شکار ہو کر خود سے مختلف قسم کی دوائیں استعمال کرنا شروع کر دیتے ہیں۔ جس سے دوائیوں کے مضر اثرات کی وجہ سے فائدہ کی بجائے نقصان کا احتمال ہوتا ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ دواؤں کے لیے بے جا اور غیر ضروری استعمال سے پرہیز کیا جائے۔ دواؤں کا استعمال ہمیشہ ڈاکٹر کے مشورہ سے ہونا چاہیے۔

بارواں: بد ہضمی کے علاج کے لیے کچے ناریل کا پانی بھی بہت مفید ہے۔ لیمن گراس قہوہ پینے سے بھی پیٹ کا اپھارہ کم ہو جاتا ہے۔ کھانا کھانے کے بعد مٹھی بھر سونف لینے سے بھی بد ہضمی دور ہو جاتی ہے۔

تیرواں: زیادہ گوشت کھانے سے ہونے والی بد ہضمی اور الٹیاں روکنے کے لیے پیاز کا جوس، پودینہ اور تین کالی مرچ ملاکر ایک گلاس گرم پانی کے ساتھ دن میں چار پانچ دفعہ استعمال کریں۔

چودھواں: بد ہضمی اور پیٹ کے اپھارہ پن سے بچنے کے لیے صبح سویرے نہارمنہ تین چار گلاس پانی پئیں۔ گھڑے کا پانی ہو تو زیادہ بہترہے۔ اس سے نہ صرف نظامِ انہضام کی صفائی ہوتی ہے بلکہ فاسد مادے خارج ہوتے ہیں اور گردوں کے افعال بھی درست ہوتے ہیں۔

اوپر دی گئی تجاویز پر عمل کر کے زیادہ گوشت کھانے سے ہونے والی بد ہضمی، پیٹ درد، معدے میں تیزابیت، ڈائریا یا قبض وغیرہ پر قابو پایا جا سکتا ہے۔ مگر ایک بات یاد رکھیں۔ اللہ کی راہ میں قربان کئے ہوئے جانوروں کا گوشت کھائیں ضرور مگر احتیاط سے اور اعتدال کے ساتھ۔

عافیت ہو۔۔۔!

دوست و احباب کو تجویز کریں

تبصرہ کریں