اتوار, نومبر 28 Live
Shadow
سرخیاں
نائیجیر: فرانسیسی فوج کی فائرنگ سے 2 شہری شہید، 16 زخمیامریکی فوج میں ہر 4 میں سے 1 عورت اور 5 میں سے 1 مرد جنسی زیادتی کا نشانہ بنتا ہے، بیشتر خود کشی کر لیتے، کورٹ مارشل کے خوف سے کوئی آواز نہیں اٹھاتا: سابقہ اہلکارروس کا غیر ملکی سماجی میڈیا کمپنیوں پر ملک میں کاروباری اندراج کے لیے دباؤ جاری: رواں سال کے آخر تک عمل نہ ہونے پر پابندی لگانے کا عندیاامریکہ ہائپر سونک ٹیکنالوجی میں چین اور روس سے بہت پیچھے ہے: امریکی جنرل تھامپسنامریکی تفریحی میڈیا صنعت کس عقیدے، نظریے اور مقصد کے تحت کام کرتی ہے؟چوالیس فیصد امریکی اولاد پیدا کرنے کی خواہش نہیں رکھتے: پیو سروے رپورٹچینی کمپنی ژپینگ نے جدید ترین برقی کار جی-9 متعارف کر دی: بیٹری کے معیار اور رفتار میں ٹیسلا کو بھی پیچھے چھوڑ دیاماحولیاتی تحفظ کی مہم کیوں ناکام ہے؟: کینیڈی پروفیسر نے امیر مغربی ممالک کو زمہ دار ٹھہرا دیااتحادیوں کو اکیلا نہیں چھوڑا جائے گا، تحفظ ہر صورت یقینی بنائیں گے: امریکی وزیردفاعروس اس وقت آزاد دنیا کا قائد ہے: روسی پادری اعظم کا عیسائی گھرانوں کی امریکہ سے روس منتقلی پر تبصرہ

شدید معاشی بدحالی: عید الاضحیٰ 1441 میں قربانی میں 26 فیصد کمی

اعداد و شمار کے مطابق موجودہ سال پاکستان میں قربانی کے جانوروں کی خریداری گزشتہ سال کی نسبت 40 فیصد کم رہی، جبکہ قربانی کی شرح میں 25 اعشاریہ 9 فیصد تک کی ریکارڈ کمی دیکھنے میں آئی۔ ماہرین کے مطابق اسکی وجہ مہنگائی، پاکستانیوں کی قوت خرید میں کمی، بے روزگاری اور کچھ حد تک کورونا وائرس ہے۔

پاکستان ٹینریز ایسوسی ایشن کی جانب سے جاری کیےگئے اعدادو شمار کے مطابق اس سال 20 لاکھ گائیں، 31 لاکھ 40 ہزاربکرے، 8 لاکھ بھیڑیں، 60 ہزار اونٹ قربان کیے گئے، جبکہ کمی کے باوجود کھالوں کی قیمتوں میں 50 فیصد کمی دیکھنے میں آئی۔

گزشتہ عیدالاضحیٰ کے موقع پر پاکستانیوں نے مجموعی طور پر 242 ارب روپے مالیت کے جانور خریدے تھے، جو اس سال کم ہو کر 174 ارب روپے تک رہے۔

پاکستان ٹینریز ایسوسی ایشن کے سابق چیئرمین کے مطابق اس سال 60 لاکھ جانوروں کی قربانی دی گئی ہے۔ یہ تعداد گزشتہ سال عید الاضحی کے موقع پر قربان ہونے والے 81لاکھ جانوروں کے مقابلے میں 21 لاکھ کم ہے۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ سال 30 لاکھ گائے، 40 لاکھ بکروں، 10 لاکھ بھیڑوں اور ایک لاکھ اونٹوں کی قربانی دی گئی تھی۔

دوست و احباب کو تجویز کریں

تبصرہ کریں

Contact Us