جمعرات, اکتوبر 22 Live
Shadow

افغان جہاد کے دوران پاکستان و مجاہدین ہندوستان کے اعصاب پر سوار تھے: بھارتی صحافی کی انکشافات سے بھرپور کتاب شائع

ہندوستان کے تحقیقاتی صحافی یاتش یادیو نے اپنی کتاب ” را: ا ے ہزٹری آف انڈیاز کوورٹ آپریشنز” میں انکشاف کیا ہے کہ افغان جہاد کے دوران بھارتی خفیہ ایجنسی را نے افغانستان میں تین جنگجوؤں کو خرید رکھا تھا، جن میں سے ایک احمد شاہ مسعود تھے، جبکہ دیگر دو اب بھی افغانستان میں ہندوستانی ایماء پر کام کررہے ہیں، اور سیاسی اثرورسوخ بھی رکھتے ہیں۔

ہندوستانی صحافی نے لکھا ہے کہ را افغانستان میں پاکستان کے بڑھتے اثرورسوخ سے شدید پریشان تھی جسکی بڑی وجہ پاکستان کو حاصل مکمل امریکی اعتماد تھا۔ ایسے حالات میں میں را پاکستان اور افغان مجاہدین کے درمیان بننے والے اتحاد کو ختم یا کمزور کرنا چاہتی تھی۔

صحافی نے لکھا ہے کہ را کے خیال میں پاکستان کا خطے میں کردار اس قدر بڑھ چکا تھا کہ وہ ایک تیر سے تین شکار کر رہا تھا۔ پاکستان مجاہدین کے ساتھ اتحاد قائم کر کے ہندوستان کو یہ باؤر کروا رہا تھا کہ وہ اسلامی اتحاد اور عالمی حمایت سے مقبوضہ کشمیر کو آزاد کروائے گا، جدید اسلحے اور مغربی سرمائے سے ہندوستان کا مدمقابل بنے گا اور روس کو پچھاڑ کر چین کے ساتھ مل کر خطے میں نئے اور مظبوط اتحاد کی بنیاد رکھے گا۔

یادیو نے لکھا ہے کہ ہندوستان کو آخر میں سوویت یونین کی شکست سے کوئی خاص دلچسپی نہ رہی تاہم مجاہدین کے ساتھ پاکستان کے اتحاد اور انکے کشمیر اور ہندوستان میں ممکنہ استعمال اور امریکی اسلحے کی بغیر کسی چھان بین کے دستیابی نے را کو شدید پریشانی میں مبتلا کر رکھا تھا۔

پندوستانی صحافی نے دعویٰ کیا ہے کہ را نے مایوس اور تھکی ہاری افغان افواج کے ساتھ ساتھ زر خرید جنگجوؤں کی پاکستان کے حمایت یافتہ مجاہدین کے خلاف ہر ممکن مدد کی، جس میں اسلحے کی فراہمی اور مجاہدین کے ٹھکانوں سے متعلق معلومات شامل تھیں۔

ہندوستانی صحافی کے مطابق امریکہ را کی افغانستان میں سرگرمیوں سے مکمل طور پر اگاہ تھا، واشنگٹن پوسٹ اخبار کی ایک خبر کا حوالہ دیتے ہوئے کتاب میں لکھا گیا ہے کہ امریکہ کی جانب سے مجاہدین کو اسلحے کی بھرپور فراہمی “ہندوستان کو سزا” کے طور پر تھی کیونکہ اس نے نہ تو سوویت یونین کے افغانستان پر حملے کی مذمت کی تھی اور نہ کمبوڈیا میں مداخلت پر بیان دیا تھا۔

یاتش یادیو نے مزید لکھا ہے کہ ہندوستان پر پاکستان کا خوف اس قدر زیادہ تھا کہہ امریکی دباؤ کے باوجود وزیر اعظم اندرا گاندھی نے افغانستان میں روسی افواج کی موجودگی کے خلاف بیان دینے سے گریز کیا۔

کتاب میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ را افسران نے امریکی حکام کو 1989 میں تربیتی کیمپوں کی جاسوسی کی معلومات سے قائل کرنے کی کوشش کی کہ پاکستان مجاہدین کو صرف افغان جہاد کے لیے تربیت نہیں دے رہا، بلکہ وہ ان سے مستقبل میں مغربی ممالک کو بھی ہراساں کرے گا۔ تاہم امریکی حکام نے ہندوستانی دعوے کو سرے سے مسترد کر دیا۔

دوست و احباب کو تجویز کریں

تبصرہ کریں