اتوار, اکتوبر 25 Live
Shadow

تمباکو چبانے والے ممالک میں پاکستان دوسرے نمبر پر: محققین کا سخت قانون سازی کا مطالبہ

پوری دنیا میں چبانے والے تمباکو سے اموات میں تیزی سے اضافہ ہورہا ہے۔ جس میں سالانہ ساڑھے تین لاکھ افراد لقمہ اجل بن رہے ہیں۔ ان میں سرِ فہرست ممالک بھارت، پاکستان اور بنگلہ دیش ہیں۔ پوری دنیا میں سالانہ جتنا تمباکو کھایا جاتا ہے اس کی 25 فیصد مقدارجنوبی ایشیا کے تین ممالک میں کھائی جاتی ہے جس میں بھارت کا حصہ 70 فیصد، پاکستان کا 7 فیصد اور بنگلہ دیش 5 فیصد کے ساتھ تیسرے نمبر پر ہے۔

حال ہی میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ گزشتہ سات برس میں عالمی سطح پر تمباکو سے اموات میں تین گنا اضافہ ہوا ہے۔ حال ہی میں تھوکنے کی عادت سے متعلق ایک تحقیق ہوئی جس کا مقصد تو کورونا کا پھیلاؤ تھا تاہم تھوکنے کے ساتھ تمباکو کے تعلق نے محققین کو پریشان کر دیا ہے۔

برصغیر پاک وہند میں تمباکو کھاکر جگہ جگہ تھوکنے کا عام رحجان ہے جو موجودہ کورونا وبا میں مزید خطرناک ثابت ہو رہا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اگر کورونا کا مریض تمباکو چبا کر تھوکتا رہے تو اس سے مرض بڑھنے کا خدشہ دوچند ہوجاتا ہے۔

اس سب کے تناظر میں عالمی جامعات سے تعلق رکھنے والے محقیق ڈاکٹر کامران صدیقی نے عوامی مقامات پر تھوکنے پر پابندی کا مطالبہ کیا ہے۔ تمباکو کا استعمال منہ میں لعاب کو بڑھاتا ہے جسے بار بار تھوکنے کی ضرورت پیش آتی ہے اور یوں اس سے کورونا وائرس کا پھیلاؤ بڑھتا ہے۔

نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ہیلتھ ریسرچ نے 2017 میں کہا تھا کہ تمباکو کھانے سے ہر سال منہ، حلق اور غذائی نالی کے کینسر سے 90 ہزار افراد لقمہ اجل بن گئے تھے۔ جبکہ دل اور دیگر بیماریوں سے مرنے والوں کی تعداد 258,000  بتائی گئی ہے لیکن اب ان کی تعداد میں بھی تیزی سے اضافہ ہورہا ہے۔

تحقیق کی تفصیلات بائیومیڈ سینٹرل کے تازہ شمارے میں چھپی ہیں جس میں 127 ممالک کا ڈیٹا لیا گیا ہے اور تمباکو کے عالمی سروے سے بھی مدد لی گئی ہے۔ ان میں سے 25 فیصد تمباکو صرف تین ممالک یعنی پاکستان، بنگہ دیش اور بھارت میں استعمال کیا جاتا ہے۔

ماہرین نے اس رحجان کی حوصلہ شکنی کرنے کے لیے سخت قوانین اور پابندیوں کا مطالعہ کیا ہے۔

دوست و احباب کو تجویز کریں

تبصرہ کریں