جمعرات, اکتوبر 22 Live
Shadow

ہندوستان کیسے کشمیر میں صہیونی طرز کی آبادکاری کر رہا ہے؟

گزشتہ سال ہندوستان سرکار نے مقبوضہ کشمیر کو حاصل خصوصی حیثیت کو ختم کرتے ہوئے اسے زبردستی ضم کرنے کی کوشش شروع کی تو عالمی سطح پر ایک نئی بحث شروع ہو گئی۔ ماہرین کا کہنا تھا کہ ہندوستان کے اقدام کی نوعیت فلسطین پر صہیونی قابضین سے مماثلت رکھتی ہے۔ جیسے صہیونی قابضین نے فلسطین کے علاقوں میں دنیا بھر سے یہودی لا لا کر بسائے بالکل ویسی ہی حکمت عملی ہندوستان نے اپنائی ہے۔

ہندوستان کے جبری قبضے کے خلاف کشمیری جدوجہد یوں تو سن 47ء سے جاری ہے تاہم اس میں تیزی 1987 سے آئی ہے۔ اب تک ایک لاکھ سے بھی زائد کشمیری نوجوان اپنی جانیں قربان کر چکے ہیں اور یہ سلسلہ اب بھی جاری ہے۔

مقبوضہ جموں و کمشیر کی 65 فیصد سے زیادہ آبادی مسلمان ہے، جب کہ وادی کشمیر جو جھڑپوں کا مرکز ہے وہاں یہ تناسب سو فیصد کے قریب ہے۔ گذشتہ سال 5 اگست  کو وزیراعظم مودی کی حکومت نے بھارتی آئین میں ایسے آرٹیکلز کو کالعدم قرار دے دیا جنہوں نے کشمیر کو جزوی خودمختاری حیثیت دی تھی اور اسے آئین سمیت دیگر حقوق کی ضمانت دی تھی۔

اس اقدام کے بعد بھارت نے سکیورٹی کے ایک بڑے آپریشن کے لیے دسیوں ہزار اضافی دستے کشمیر بھیجے جہاں ممکنہ ردعمل روکنے کے لیے طویل تالا بندی، محاصرے اور کرفیو جیسی پابندیاں عائد کی گئیں۔ ہزاروں افراد کو گرفتار کیا گیا اور اب تک مواصلات کا نظام بند کر رکھا ہے۔

مقبوضہ جموں و کشمیر کو دہلی کی مرکزی حکومت کے ماتحت وفاقی علاقہ قرار دے دیا گیا جبکہ اس کے علاقے لداخ کو ایک علیحدہ انتظامی علاقے میں بدل دیا گیا۔ بی جے پی کی حمایت یافتہ ہندو تنظیم راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) کشمیر میں اس اقدام کے لیے کافی عرصہ سے مہم چلا رہی تھی۔

اس کے ساتھ ساتھ مودی حکومت نے شہریت کا متنازع قانون بھی متعارف کرایا، جس نے بھارت کے 20 کروڑ مسلم اقلیت کو خوف میں مبتلا کر دیا ہے۔ ہندوستانی مسلمانوں میں خوف ہے کہ مودی ایک ہندو ریاست بنانے کے رستے پر ہے۔

ہندوستان نے 1927 سے قائم کشمیر میں رہائش کے حوالے سے خصوصی قوانین کو ختم کرتے ہوئے، جس کے تحت صرف کشمیری ہی وادی میں زمین اور جائیداد کے مالک ہو سکتے ہیں، سرکاری ملازمتوں اور یونیورسٹی میں داخلے کے حق دار ہوسکتے ہیں، اور بلدیاتی انتخابات میں ووٹ ڈال سکتے ہیں کو ختم کر دیا ہے۔

اب بھارت کے کسی بھی حصے سے مخصوص لوگ کشمیر کے ڈومیسائل سرٹیفکیٹ کے لیے درخواست دے سکتے ہیں جس سے انہیں مندرجہ بالا تمام حقوق تک رسائی حاصل ہوسکے گی۔ ان میں 15 سال سے کشمیر میں مقیم افراد، ماضی قریب میں پاکستان جانے ہونے والے ہزاروں مہاجرین، 17 لاکھ سے زیادہ دیگر ریاستوں سے آئے ہوئے مزدور جن میں بیشتر ہندو ہیں، بھی کشمیر میں آباد ہو سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ سرکاری ملازمین جنہوں نے کشمیر میں سات سال تک کام کیا ہے اور ان کے بچے اور کچھ طلبہ بھی رہائشی حیثیت کے اہل ہیں۔ اس سب کا مقصد خطے کی آبادی کا تناسب بدلنا اور مستقبل میں عالمی دباؤ پر رائے شماری کو متاثر کرنا ہے۔

ہندوستان نے یہاں ہی بس نہیں کیا بلکہ، مقامی لوگوں کو بھی نئے ڈومیسائل لینے کا پابند بنایا ہے۔ اب کشمیریوں کو بھی مستقل طور پر رہائشی حقوق حاصل کرنے کے لیے نئے ڈومیسائل سرٹیفکیٹ کے لیے درخواست دینا ہوگی۔ اپنی اہلیت ثابت کرنے کے لیے انہیں اپنے مستقل رہائشی سرٹیفکیٹ (پی آر سی) تیار کرانا ہوں گے۔

یوں ہندوستانی اقدام مقبوضہ فلسطین پر صہیونی طرز سے بالکل مماثلت رکھتا ہے جس کے نتائج بھی خطے میں نفرتوں کو بڑھانےاور امن کو نقصان پہنچانے کے علاوہ کچھ نہ ہوں گے۔

دوست و احباب کو تجویز کریں

تبصرہ کریں