جمعرات, اکتوبر 22 Live
Shadow

پاکستان میں ڈیجیٹل قوانین کی ضرورت اور حکومتی رویہ

سماجی رابطوں کی مختلف ویب سائٹوں حتیٰ کہہ دیگر ذرائع ابلاغ کے پلیٹ فارموں سے غلط اور صحیح معلومات کا دوردورہ تو رہتا ہے پر کچھ معلومات شہریوں کی توجہ کو خصوصی طور پر اپنی جانب مبذول کرواتی ہیں۔ آج کل ایسی ہی ایک خبر حکومتی اداروں کی جانب سے شہریوں کے پیغامات تک رسائی کے ارادے کی ہے۔

خبر کی تفصیلات سے کچھ ایسا تاثر مل رہا ہے کہ وفاقی حکومت پاکستانی شہریوں کے موبائل فون پر کی جانے والی گفتگو اور سوشل میڈیا پر فون کالوں اور پیغامات کو سننے اور پڑھنے کے لیے قانون سازی کا ارادہ رکھتی ہے۔ جس کے لیے پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) موبائل فون اور سوشل میڈیا پلیٹ فارموں پر ہونے والی کالوں اور پیغامات کو ریکارڈ کرنے کے بعد وفاقی وزارت داخلہ کے حوالے کرے گی۔ یوں اس خبر کے تناظر میں صارفین کو فون پر بات کرتے ہوئے نازک اور حساس موضوعات پر گفتگو سے گریز کرنے کا مشورہ دیا جا رہا ہے۔ سادہ الفاظ میں معاشرتی انتشار، سیاسی مسائل، عسکری اداروں سے متعلق گفتگو اور موجودہ حکومت خصوصاً وزیر اعظم عمران خان سے متعلق معاملات پر موبائل اور انٹرنیٹ پر پیغامات کو لے کر احتیاط کرنے کا مشورہ دیا گیا ہے۔

ایسے میں ایک خبر رساں ادارے نے پی ٹی اے سے رابطہ کیا اور اس قانون سے متعلق پوچھا تو ان کی طرف سے ایسے کسی اقدام کی نفی کی گئی۔

تاہم کیا حکومتیں ایسا کر سکتی ہیں یا دنیا میں کسی مک میں ایسا ہو رہا ہے؟ اس بارے میں آئی ٹی ماہرین سے رہنمائی لی جا سکتی ہے۔

آئی ٹی ماہرین کا کہنا ہے کہ ایسا بالکل ممکن ہے، اور بہت سے ممالک ایسا کر رہے ہیں۔ جس میں چین تو بدنام ہے ہی تاہم آزادی کے نام نہاد علمبردار مغربی ممالک بھی اس میں پیش پیش ہیں۔ چین نے مغربی ممالک کے چنگل سے بچنے کے لیے ملک میں امریکی سماجی ابلاغ کے بیشتر پلیٹ فارموں پر پابندی لگا رکھی ہے اور ملک مقامی طور پر تیار کردہ پلیٹ فارموں کو فروغ دیتا ہے، تاکہ نہ صرف ملک کی سیاسی وسماجی معلومات اور رحجانات کو مغربی اثرو رسوخ سے بچایا جا سکے بلکہ بگ ڈیٹا کے تناظر میں بھی قومی ڈیٹے کو محفوظ رکھا جا سکے اور اس کے ساتھ ساتھ اسے پہلے ملکی فائدے میں استعمال کیا جا ئے نہ کہ کسی غیر ملکی کمپنی کے فائدے کے لیے۔

دنیا بھر میں شہروں اور اداروں کو اعدادو شمار، بصیرت اور رجحانات پر مدد فراہم کرنے والے بین الاقوامی ادارے ڈیٹا رپورٹل کی ایک حالیہ رپورٹ ڈیجیٹل 2020 کے مطابق پاکستان میں  2019 کے مقابلے میں رواں سال کے پہلے چھ مہینوں کے دوران موبائل فون صارفین کی تعداد میں تقریباً دس فیصد اضافہ ہوا ہے۔ اسی طرح انٹرنیٹ استعمال کرنے والوں کی تعداد میں گذشتہ سال کی نسبت 17 فیصد جبکہ سوشل میڈیا صارفین کی تعداد میں سات فیصد اضافہ ہوا۔ پی ٹی اے کی ویب سائٹ کے مطابق اس وقت پاکستان میں مجموعی طور پر ایک کروڑ 67 لاکھ موبائل فون سیٹ رجسٹر ہیں جبکہ تھری جی اور فور جی انٹریٹ صارفین کی تعداد 81 لاکھ، لینڈ لائن ٹیلیفون استعمال کرنے والے 30 لاکھ اور براڈ بینڈ صارفین کی تعداد 83 لاکھ ہے۔ لیکن پاکستانیوں کی جانب سے پیدا کیا جانے والا یہ ڈیٹا خود پاکستان کی رسائی میں نہیں، اور نہ امریکی سماجی میڈیا کے پلیٹ فارم اس تک رسائی دیتے ہیں۔

ترکی نے حال ہی میں اس حوالے سے قانون سازی کی ہے اور ملک میں کام کرنے والی تمام سماجی ابلاغیات کی عالمی کمپنیوں کو پابند کیا ہے کہ اس کے شہریوں سے متعلق ان کی مارکیٹ کو بھی رسائی دی جائے تاکہ مقامی پیداواری صنعت بھی اس سے فائدہ اٹھا سکے۔ اور خطے کی بگڑتی سکیورٹی صورتحال میں حفاظت کا بندوبست بھی رہے۔

ماہرین کی رائے ہے کہ پاکستان کو بھی ملکی ڈیٹے کو محفوظ بنانے کے لیے اقدامات کرنے چاہیے تاہم شہریوں کی آزادی پر قدغن لگانے کے لیے نہیں، بلکہ سیاسی و معاشی تحفظ کے ساتھ ساتھ معاشی فائدے کے لیے ایسا کیا جانا چاہیے۔ واضح رہے کہ ڈیٹے، خصوصاً سماجی رحجانات کو مارکیٹنگ کے تناظر بہت اہمیت حاصل ہے، ڈیٹا کو موجودہ دور کا تیل کہا جا رہا ہے، یعنی جس کے پاس ڈیٹے کا خزانہ ہو گا وہی آئندہ دنیا پہ حکمرانی کرے گا۔

دوست و احباب کو تجویز کریں

تبصرہ کریں