Shadow
سرخیاں
بحرانی صورتحال: مغربی رہنما اپنے عوام سے مزید قربانیاں طلب کر رہے ہیں۔ایران جنگ ‘امریکی سلطنت کا خاتمہ’ ہے – ٹکر کارلسنبرطانوی شاہی بحریہ میں نشے اور جنسی زیادتیوں کے واقعات کا انکشاف، ترجمان کا تبصرے سے انکار، تحقیقات کی یقین دہانیتیونسی شہری رضا بن صالح الیزیدی کسی مقدمے کے بغیر 24 برس بعد گوانتانوموبے جیل سے آزادمغربی طرز کی ترقی اور لبرل نظریے نے دنیا کو افراتفری، جنگوں اور بےامنی کے سوا کچھ نہیں دیا، رواں سال دنیا سے اس نظریے کا خاتمہ ہو جائے گا: ہنگری وزیراعظمامریکی جامعات میں صیہونی مظالم کے خلاف مظاہروں میں تیزی، سینکڑوں طلبہ، طالبات و پروفیسران جیل میں بندپولینڈ: یوکرینی گندم کی درآمد پر کسانوں کا احتجاج، سرحد بند کر دیخود کشی کے لیے آن لائن سہولت، بین الاقوامی نیٹ ورک ملوث، صرف برطانیہ میں 130 افراد کی موت، چشم کشا انکشافاتپوپ فرانسس کی یک صنف سماج کے نظریہ پر سخت تنقید، دور جدید کا بدترین نظریہ قرار دے دیاصدر ایردوعان کا اقوام متحدہ جنرل اسمبلی میں رنگ برنگے بینروں پر اعتراض، ہم جنس پرستی سے مشابہہ قرار دے دیا، معاملہ سیکرٹری جنرل کے سامنے اٹھانے کا عندیا

امریکی انتخابات اور بعد کی صورتحال پر فوج کے کردار کی بازگشت: جائنٹ چیف کی کانگریس میں طلبی، وضاحت طلب

امریکہ میں ایک اعلیٰ جنرل نے جمعے کو کانگریس کے سامنے پیش ہوتے ہوئے بیان دیا ہے کہ آئندہ صدارتی انتخاب کے دوران امریکی فوج کا کوئی کردار نہیں ہو گا، اور نہ ہی فوج نومبر کے انتخابات میں پیش آنے والے کسی تنازع کو حل کرنے کی کوشش میں ملوث ہو گی۔

امریکی خبر رساں اداروں کے مطابق امریکی جوائنٹ چیفس آف سٹاف جنرل مارک ملی کا بیان کانگریس کے اجلاس کے سرکاری دستاویزات سے لیک ہوا ہے۔ جنرل سے کانگریس میں انتخاب کے نتائج میں ممکنہ تنازع کے حوالے سے سوالات کیے گئے جس کے ردعمل میں انھوں نے کہا کہ صدارتی انتخاب کے دوران امریکی فوج غیر سیاسی رہے گی۔

واضح رہے کہ امریکی صدراتی انتخابات کے دونوں امیدوار ڈونلڈ ٹرمپ اور جو بائیڈن انتخابات میں ممکنہ بے ضابطگیوں کا ذکر کر چکے ہیں۔ جس کے بعد ملک بھر میں ہنگامی صورتحال یا کسی تیسری قوت کے مداخلت کی چہ مگوئیاں دنیا بھر میں کی جا رہی ہیں۔ ایسے میں مائیک ملی کا کانگریس میں طلب کیا جانا اور ممکنہ کردار پر سوالات کا ہونا تشویش کو بڑھانے کا مؤجب ہے۔

تاہم امریکی جنرل نے واضح طور پر کہا ہے کہ “انتخابات سے متعلق کسی تنازع کی صورت میں قانون کے مطابق امریکی عدالتوں اور امریکی کانگریس کو حل تلاش کرنا ہوتا ہے، نہ کہ امریکی فوج کو، فوج غیر سیاسی رہے گی، میں اس مرحلے کے دوران امریکی فوج کا کوئی کردار نہیں دیکھ رہا۔۔۔ ہم امریکہ کے آئین سے قطعاً روگردانی نہیں کریں گے۔”

رواں ماہ کے اوائل میں پینٹاگون نے بھی چہ مگوئیوں کے بڑھنے پر بیان میں کہا تھا کہ امریکی آئین کے مطابق کسی سیاسی یا انتخابی تنازع کی صورت میں فوج کی ثالثی کا کوئی کردار نہیں ہوتا، فوج اس قانونی حیثیت پر ہی قائم رہے گی۔

انتخابات میں فوج کے کردار کی چہ مگوئیوں کو پھیلانے میں بڑا کردار امریکہ کے لبرل طبقے کے میڈیا کا ہے، جو اس موضوع پر مسلسل عوام میں تحفظات کو پھیلا رہا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ فوج کو سیاسی بنا رہے ہیں۔ امریکی لبرل میڈیا اس تناظر میں صدر ٹرمپ کے جارج فلوئیڈ کی ہلاکت کے بعد ملک بھر میں ہنگاموں پر قابو پانے کے لیے فوجی دستے تعینات کرنے کے سنگین اقدام کے اشارے کو بطور حوالہ استعمال کر رہا ہے۔

دوسری جانب صدارتی انتخاب میں ڈیموکریٹ امیدوار جوبائیڈن نے بھی اپنی مہم میں فوج کا ذکر کرتے ہوئے کہا ہے کہ انھیں خدشہ ہے صدر ٹرمپ نومبر انتخابات میں فوج کو استعمال کریں گے، تاہم انہیں فوج پر بھروسہ ہے، اور اگر ٹرمپ نے ایسا کچھ کرنے کی کوشش کی تو فوج ٹرمپ کو وائٹ ہاؤس سے بےدخل کر دے گی۔

دوست و احباب کو تجویز کریں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

two × one =

Contact Us