اتوار, نومبر 28 Live
Shadow
سرخیاں
نائیجیر: فرانسیسی فوج کی فائرنگ سے 2 شہری شہید، 16 زخمیامریکی فوج میں ہر 4 میں سے 1 عورت اور 5 میں سے 1 مرد جنسی زیادتی کا نشانہ بنتا ہے، بیشتر خود کشی کر لیتے، کورٹ مارشل کے خوف سے کوئی آواز نہیں اٹھاتا: سابقہ اہلکارروس کا غیر ملکی سماجی میڈیا کمپنیوں پر ملک میں کاروباری اندراج کے لیے دباؤ جاری: رواں سال کے آخر تک عمل نہ ہونے پر پابندی لگانے کا عندیاامریکہ ہائپر سونک ٹیکنالوجی میں چین اور روس سے بہت پیچھے ہے: امریکی جنرل تھامپسنامریکی تفریحی میڈیا صنعت کس عقیدے، نظریے اور مقصد کے تحت کام کرتی ہے؟چوالیس فیصد امریکی اولاد پیدا کرنے کی خواہش نہیں رکھتے: پیو سروے رپورٹچینی کمپنی ژپینگ نے جدید ترین برقی کار جی-9 متعارف کر دی: بیٹری کے معیار اور رفتار میں ٹیسلا کو بھی پیچھے چھوڑ دیاماحولیاتی تحفظ کی مہم کیوں ناکام ہے؟: کینیڈی پروفیسر نے امیر مغربی ممالک کو زمہ دار ٹھہرا دیااتحادیوں کو اکیلا نہیں چھوڑا جائے گا، تحفظ ہر صورت یقینی بنائیں گے: امریکی وزیردفاعروس اس وقت آزاد دنیا کا قائد ہے: روسی پادری اعظم کا عیسائی گھرانوں کی امریکہ سے روس منتقلی پر تبصرہ

فسلطینی ریاست کے قیام کے مدعے پر قائم ہیں، معاہدہ فلسطین کی قیمت پر نہیں: اماراتی امیر

متحدہ عرب امارات کے ولی عہد کی جانب سےصہیونی ریاست کو قبول کرنے کے نتیجے میں ریاست فلسطین کے قیام کی اہمیت کم ہونے کے تاثر کو مسترد کردیا۔

عرب خبر رساں ادارے سے گفتگو کرتے ہوئے متحدہ عرب امارات کے ولی عہد شیخ محمد بن زاید النہیان نے کہا کہ یو اے ای اور صہیونی انتظامیہ کے درمیان باہمی تعلقات کا حالیہ معاہدہ فلسطین کی قیمت پر نہیں کیا۔ متحدہ عرب امارات فلسطینیوں کا دوسرا ملک ہے، عرب امارات بیت المقدس کو دارالحکومت بنائے جانے کے ساتھ آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے اپنے عزم پر قائم ہے۔ ولی عہد کا کہنا تھا کہ صیہونی ریاست کے ساتھ معاہدہ ایک تذویراتی انتخاب ہے، سمجھوتہ نہیں۔

یاد رہے، گزشتہ دنوں متحدہ عرب امارات اور صہیونی انتطامیہ کے درمیان باہمی تعلقات قائم کرنے کے لیےامن معاہدہ طے پایا ہے جس کے تحت صہیونی افواج مزید فلسطینی علاقوں پر قبضہ نہیں کریں گی، اور دو طرفہ تعلقات کے لیے دونوں ممالک مل کر حکمت عملی بنائیں گے۔

معاہدے کے مطابق امریکہ اور متحدہ عرب امارات، صہیونی ریاست کو قبول کروانے کے لیے دیگر مسلم ممالک کو امادہ کرنے کی کوشش بھی کریں گے اور اس دوران مسلمان مقبوضہ بیت المقدس آ کر مسجد اقصیٰ میں نماز بھی ادا کر سکیں گے۔

دوست و احباب کو تجویز کریں

تبصرہ کریں

Contact Us