اتوار, جنوری 16 Live
Shadow
سرخیاں
قازقستان ہنگامے: مشترکہ تحفظ تنظیم کے سربراہ کا صورتحال پر قابو کا اعلان، امن منصوبے کی تفصیلات پیش کر دیںبرطانوی پارلیمنٹ میں منشیات کا استعمال: اسپیکر کا سونگھنے والے کتے بھرتی کرنے کا عندیاامریکی سی آئی اے اہلکاروں کے ایک بار پھر کم عمر بچوں بچیوں کے ساتھ جنسی جرائم میں ملوث ہونے کا انکشافامریکہ کا مشرقی افریقہ میں تاریخ کے سب سے بڑے فوجی آپریشن کا اعلان: 1 ہزار سے زائد مزید کمانڈو تیارروسی صدر کی ثالثی: آزربائیجان اور آرمینیا کے مابین سرحدی جھڑپیں ختم، سرحدی حدود کے تعین پر اتفاق، جنگ سے متاثر آبادی اور دیگر انسانی حقوق کے تحفظ کی بھی یقین دہانینائیجیر: فرانسیسی فوج کی فائرنگ سے 2 شہری شہید، 16 زخمیامریکی فوج میں ہر 4 میں سے 1 عورت اور 5 میں سے 1 مرد جنسی زیادتی کا نشانہ بنتا ہے، بیشتر خود کشی کر لیتے، کورٹ مارشل کے خوف سے کوئی آواز نہیں اٹھاتا: سابقہ اہلکارروس کا غیر ملکی سماجی میڈیا کمپنیوں پر ملک میں کاروباری اندراج کے لیے دباؤ جاری: رواں سال کے آخر تک عمل نہ ہونے پر پابندی لگانے کا عندیاامریکہ ہائپر سونک ٹیکنالوجی میں چین اور روس سے بہت پیچھے ہے: امریکی جنرل تھامپسنامریکی تفریحی میڈیا صنعت کس عقیدے، نظریے اور مقصد کے تحت کام کرتی ہے؟

جمال خاشقجی قتل: 5 ملزمان کو 20، 3 کو 10 سال قید کی سزا

سعودی عدالت نے صحافی جمال خاشقجی کے قتل کے مقدمے میں نامزد 8 میں سے 5 ملزمان کو 20 سال اور 3 کو سات سے دس سال قید کی سزا سنائی ہے۔

سعودی خبر رساں ادارے کے مطابق استنبول کے سعودی سفارت خانے میں قتل ہونے والے صحافی جمال خاشقجی کے قتل کی سماعت سفارتی قانون کے مطابق سعودی عرب میں ہوئی۔ جس میں 20 سے زائد افراد کو ست میں لیا گیا، تاہم تحقیقات کے بعد 8 ملزمان پر مقدمہ چلایا گیا۔

اگرچہ فیصلے کی تفصیل تاحال سامنے نہیں آئی ہے اور نہ ہی ملزمان کے نام ظاہر کیے گئے ہیں تاہم فیصلے کے مطابق عدالت نے ملزمان سے معافی اور نظر ثانی کی درخواست کا حق بھی چھین لیا ہے۔ تاہم سعوی قوانین کے تحت مقتول کے اہل خانہ ملزمان کو معاف کرنے کا حق رکھتے ہیں۔

مقتول صحافی کے بیٹے صلاح خاشقجی نے رواں برس ماہ رمضان میں سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر کہا تھا کہ یہ مقدس مہینہ درگزر کرنے کا مہینہ ہے اس لیے ہم اپنے والد کے قاتلوں کو اللہ کی رضا کے لیے معاف کرتے ہیں۔ تاہم اس کے بعد بھی مقدمہ چلا اور ملزمان کو سزا سنائی گئی ہے۔

واضح رہے کہ سعودی ولی عہد کے سخت ترین ناقد جلاوطن صحافی جمال خاشقجی 2 اکتوبر 2018 کو ترکی کے شہر استنبول میں سعودی قونصل خانے گئے تھے اور پھر واپس نہیں لوٹے تھے، خدشہ ظاہر کیا گیا تھا کہ انہیں قونصل خانے میں ہی قتل کر دیا گیا ہے جس کی بعد میں تصدیق بھی ہوگئی تھی۔

دوست و احباب کو تجویز کریں

تبصرہ کریں

Contact Us