اتوار, April 10 Live
Shadow
سرخیاں
افغانستان میں امریکی فوج کی جانب سے تشدد کی تربیت کے لیے بلوچی قیدی کو استعمال کرنے کا انکشافہندوستانی میزائل کا مبینہ غلطی سے پاکستانی حدود میں گرنے کا واقعہ: امریکہ کی طرف سے متعصب جبکہ چین کی جانب سے نصیحت آمیز ردعملمیٹا آسٹریلوی سیاستدانوں کو سائبر حملوں اور جھوٹی خبروں سے بچنے کی تربیت دے گییوکرین: مغربی ممالک سے آئے 180 سے زائد جنگجو ہوائی حملے میں ہلاک، روس کی مغربی ممالک کو تنبیہ، سب نشانے پر ہیں، چُن چُن کر ماریں گےاسرائیل پر تاریخ کا بڑا سائبر حملہ: وزیراعظم، وزارت داخلہ اور وزارت صیہونی بہبود کی ویب سائٹیں ہیک اور تلفروس اور یوکرین کے مابین جلد امن معاہدہ طے پا جائے گا: روسی مذاکرات کاریوکرینی مہاجرین کی تعداد 50 لاکھ سے بڑھ گئی: اقوام متحدہفیس بک اور انسٹاگرام کی شدید متعصب پالیسی کا اعلان: روسی صدر اور فوج کیخلاف نفرت اور موت کے پیغامات شائع کرنے کی اجازت، نتیجتاً مغربی ممالک میں آرتھوڈاکس کلیساؤں اور روسی کاروباروں پر حملوں کی خبریںترکی کا بھی روس کے ساتھ مقامی پیسے میں تجارت کرنے کا اعلانمغرب کے دوہرے معیار: دنیا پر روس سے تجارت پر پابندیاں، برطانیہ سمیت بیشتر مغربی ممالک روس سے گیس و تیل کی خریداری جاری رکھیں گے

نیوزی لینڈ میں بھی خطرناک بیماریوں میں مبتلا افراد کو زہریلے ٹیکے سے اپنی زندگی ختم کرنے کی اجازت دے دی گئی

نیوزی لینڈ ان چند ممالک میں شامل ہو گیا ہے جہاں مریضوں کو زہر کا ٹیکہ لگوا کا مرنے کا اختیار دے دیا گیا ہے، فیصلہ عوامی رائے دہی کے ذریعے کیا گیا ہے جس پر عملدرآمد نومبر 2021 سے شروع ہو جائے گا۔

قانون کے تحت ایسے مریض جن کے بچنے کی امید کم ہو، انہیں ڈاکٹر کے مقررہ وقت سے 6 ماہ قبل زہر کا ٹیکہ لگوا کر زندگی کو ختم کرنے کا اختیار دیا گیا ہے، وقت کو مقرر کرنے کے لیے دو ڈاکٹروں کے خصوصی گروہ سے اجازت لی جائے گی۔

اکتوبر کی 17 کو ہونے والے عوامی ووٹ میں 65 اعشاریہ 2 فیصد عوام نے زہر سے زندگی کو ختم کرنے کے اختیار والے قانون کی توثیق کی ہے۔ قانون کے خلاف 33 اعشاریہ 8 فیصد شہریوں نے ووٹ دیا۔ واضح رہے کہ ریفرنڈم کے نتائج کا اعلان آج بروز جمعہ کیا گیا ہے، جبکہ سرکاری نتائج کا اعلان نومبر کی 6 تاریخ کو کیا جائے گا، کیونکہ ابھی پانچ لاکھ سے زائد خصوصی بیلٹ کا کھلنا باقی ہے، جن میں سے زیادہ تر بیرون ملک مقیم نیوزی لینڈ کے شہریوں کے ووٹ شامل ہیں۔ تاہم فرق اس قدر زیادہ ہے کہ باقی ماندہ تمام ووٹ بھی نتائج کو بدل نہیں سکتے۔

یوں بیماروں کو اپنی زندگی زہر سے ختم کرنے والے اختیار کی قانونی اجازت دینے میں نیوزی لینڈ 7واں ملک بن گیا ہے۔ دیگر ممالک میں کینیڈا، بیلجیئم، اور امریکہ کی چند ریاستیں شامل ہیں۔

قانون کے مخالفین خصوصاً عیسائی اور دیگر مذہبی گروہوں نے نتائج پر ردعمل میں کہا ہے کہ اس سے خودکشی کے رحجان کو تقویت ملے گی، اور خاندانی نظام بھی بری طرح متاثر ہو گا، کیونکہ لوگ اہل خانہ پر خود کو بوجھ سمجھتے ہوئے زندگی کو ختم کرنے کو ترجیح دیں گے۔

واضح رہے کہ اگرچہ اب تک عمومی طور پر یہ قانون دنیا میں ظلم اور مایوسی کی علامت سمجھا جاتا ہے تاہم گزشتہ کچھ سالوں میں مغربی لبرل تہذیب کے حامل متعدد ممالک میں اسے خصوصی بحث کا مدعہ بنایا جا رہا ہے اور ابھی ایک ماہ قبل نیدرلینڈ نے خطرناک بیماریوں میں مبتلا بچوں کو بھی ڈاکٹر کے مشورے سے زہر سے مارنے کی اجازت دینے کا عندیا دیا ہے۔

دوست و احباب کو تجویز کریں

تبصرہ کریں

Contact Us