منگل, مئی 18 Live
Shadow
سرخیاں
فوج میں بڑھتے مارکسی نظریات پر تنقید: امریکی خلائی فوج کا کمانڈو برطرف، انتظامی کارروائی کا آغازمقبوضہ فلسطین: بے بس فلسطینیوں کی جانب سے قابض صیہونی افواج پر گاڑی چڑھا کر حملہ کرنے کے واقعات میں اضافہ، درجنوں قابض فوجی زخمی، 3 فلسطینی شہیدفرانس میں جرنیلوں کے بعد پولیس افسران کا خط بھی تشویش سے بھرا خط سامنے آگیا: ملک میں بڑھتی انتظامی ناکامی پر سیاسی حلقے پریشانچین سے معاشی میدان میں مقابلے میں ناکامی پر مغرب میں ایشیائی ملک کے خلاف پراپیگنڈا تیزغزہ میں بین الاقوامی نشریاتی اداروں کے زیر استعمال عمارت پر بمباری: اے پی، الجزیرہ سمیت دنیا بھر سے مذمت، تحقیقات کا مطالبہامریکہ میں انوکھا عوامی سروے: کیا آپ شیر، ریچھ اور مگرمچھ سے مقابلے میں جیت سکتے ہیں؟ایران: سابق صدر احمدی نژاد نے بھی آئندہ صدارتی دوڑ کے لیے کاغذات نامزدگی جمع کروا دیےغلطیاں اور سبقمیرا کشمیر شبِ تاریک کے مشعل بردار سے محروم کر دیا گیاپاکستان سمیت دنیا بھر میں فلسطینیوں کے حق میں مظاہرے: یورپ میں صیہونی لابی کے زیر اثر گروہوں کے ساتھ جھڑپیں اور پولیس تشدد کے واقعات بھی درج – ویڈیو

کورونا وباء کی دوسری لہر: پرتگال، برطانیہ اور آسٹریا نے بھی تالہ بندی کا اعلان کر دیا

پرتگال، آسٹریا اور برطانیہ کورونا وباء کی دوسری لہر کے پیش نظر تالہ بندی کا اعلان کرنے والے یورپی ممالک میں شامل گئے ہیں۔

پرتگال نے لوگوں کو انتہائی ضروری کاموں کے علاوہ گھروں سے نکلنے سے منع کر دیا ہے، نومبر کی 4 تاریخ سے شروع ہونے والی تالہ بندی 121 بلدیات پر لاگو ہو گی، جبکہ وزیر اعظم نے اعلان کیا ہے کہ اگر حکومت کو ضروری لگا تو باقی ماندہ 30 فیصد علاقوں میں بھی پابندی عائد کر دی جائے گی۔

واضح رہے کہ اگرچہ پرتگال یورپ کے دیگر ممالک کی نسبتاً کورونا سے کم متاثر ہوا ہے تاہم صحت کے شعبے میں مسائل کی وجہ سے، اور اسپتالوں میں مزید خصوصی نگہداشت کے بستر نہ ہونے کی وجہ سے حکومت نے تالہ بندی کا فیصلہ کیا ہے۔ ملک میں اب تک مجموعی طور پر 2507 ہلاکتیں ہوئی ہیں تاہم یومیہ تقریباً2 ہزار مریضوں کا اضافہ حکومت کے لیے خوف کا باعث بنا ہوا ہے۔

برطانوی وزیراعظم بورس جانسن نے بھی کل شام ملک بھر میں تالہ بندی کا اعلان کر دیا ہے، جو دسمبر کی 2 تاریخ تک جاری رہے گا۔

آسٹریا نے بھی 3 نومبر سے تالہ بندی کے فیصلے کا اعلان کرتے ہوئے رات 8 سے صبح 6 بجے تک گھروں سے نکلنے پر مکمل پابندی عائد کر دی ہے۔

دوسری طرف یورپ بھر میں نچلے طبقے کی غریب عوام کاروباری سرگرمیاں بند ہونے پر سخت ناراضگی کا اظہار کر رہی ہے، مختلف ممالک میں پر تشدد مظاہرے بھی کیے جا رہے ہیں، جن میں اٹلی اور اسپین زیادہ نمایاں ہیں، جبکہ برطانیہ اور ویانا میں شہریوں نے تالہ بندی کے خلاف پر امن مظاہرے کیے ہیں، اور حکومت پر تالہ بندی نہ کرنے پر زور دیا ہے۔

دوست و احباب کو تجویز کریں

تبصرہ کریں

Contact Us