ہفتہ, April 9 Live
Shadow
سرخیاں
افغانستان میں امریکی فوج کی جانب سے تشدد کی تربیت کے لیے بلوچی قیدی کو استعمال کرنے کا انکشافہندوستانی میزائل کا مبینہ غلطی سے پاکستانی حدود میں گرنے کا واقعہ: امریکہ کی طرف سے متعصب جبکہ چین کی جانب سے نصیحت آمیز ردعملمیٹا آسٹریلوی سیاستدانوں کو سائبر حملوں اور جھوٹی خبروں سے بچنے کی تربیت دے گییوکرین: مغربی ممالک سے آئے 180 سے زائد جنگجو ہوائی حملے میں ہلاک، روس کی مغربی ممالک کو تنبیہ، سب نشانے پر ہیں، چُن چُن کر ماریں گےاسرائیل پر تاریخ کا بڑا سائبر حملہ: وزیراعظم، وزارت داخلہ اور وزارت صیہونی بہبود کی ویب سائٹیں ہیک اور تلفروس اور یوکرین کے مابین جلد امن معاہدہ طے پا جائے گا: روسی مذاکرات کاریوکرینی مہاجرین کی تعداد 50 لاکھ سے بڑھ گئی: اقوام متحدہفیس بک اور انسٹاگرام کی شدید متعصب پالیسی کا اعلان: روسی صدر اور فوج کیخلاف نفرت اور موت کے پیغامات شائع کرنے کی اجازت، نتیجتاً مغربی ممالک میں آرتھوڈاکس کلیساؤں اور روسی کاروباروں پر حملوں کی خبریںترکی کا بھی روس کے ساتھ مقامی پیسے میں تجارت کرنے کا اعلانمغرب کے دوہرے معیار: دنیا پر روس سے تجارت پر پابندیاں، برطانیہ سمیت بیشتر مغربی ممالک روس سے گیس و تیل کی خریداری جاری رکھیں گے

نسلی تعصب کو کم کرنے کے لیے لندن پولیس میں بھرتیاں آبادی کے تناسب سے ہوں گی – 40٪ اہلکار سیاہ فام، ایشیائی اور دیگر اقلیتی گروہوں سے ہوں گے: ناظم اعلیٰ لندن صادق خان

لندن کے ناظم اعلیٰ صادق خان نے شہری پولیس میں 40 فیصد اہلکار سیاہ فام، ایشیا اور دیگر لسانی گروہوں سے بھرتی کرنے کا حکم دیا ہے، انتظامیہ کا کہنا ہے کہ اقدام سے حکومت پر نسلی تعصب کے الزامات میں کمی آئے گی۔

برطانوی نشریاتی اداروں کے مطابق منصوبے پر لمبے عرصےسے کام جاری تھا، اور آخری رائے دہی کے لیے رواں ہفتے لندن کے میئر صادق خان اور پولیس کے اعلیٰ افسر کے مابین کئی ملاقاتیں ہوئیں، اور بالآخر آج اسے عوام کے سامنے پیش کر دیا گیا ہے۔

اس موقع پر اپنے خصوصی پیغام میں ناظم اعلیٰ صادق خان نے کہا کہ ہمارے سرکاری نظام اور معاشرے سے نسلی تعصب کو کم کرنے کے لیے ایک اہم منصوبہ پیش کیا جا رہا ہے، اس سے اداروں میں موجود تعصب کو کم کرنے میں مدد ملے گی، پولیس میں ایسی بڑی اور اہم اصلاح کبھی نہیں ہوئی۔

واضح رہے کہ لندن کی 40 فیصد آبادی سفید فام نہیں ہے، یعنی ان کا تعلق سیاہ فام، ایشیائی یا دیگر لسانی گروہوں سے ہے، جبکہ پولیس میں انکی نمائندگی 15 فیصد ہے۔ 2019 میں ایک بیان میں لندن پولیس کے سربراہ کا کہنا تھا کہ آبادی کی تناسب سے پولیس میں نمائندگی حاصل کرنے میں غیر سفید آبادی کو سو سال لگ سکتے ہیں۔

صادق خان کے منصوبے پر جہاں ایک حلقے کی جانب سے پذیرائی دیکھنے کو آ رہی ہے، وہاں اس کے ناقدین کی بھی کمی نہیں۔ کچھ نے منصوبے کو خود میں نسلی تعصب کہا ہے اور اس کے مثبت نتائج پر شک و شبہات کا اظہار کیا ہے، جبکہ کچھ کا کہنا ہے کہ بھرتیاں معیار پر ہونی چاہیے نہ کہ لسانی و نسلی بنیادوں پر۔

یاد رہے کہ لندن کی پولیس میں اصلاحات کی اس سے پہلے کئی کوششیں ناکام رہی ہیں، اور اس کے علاوہ 2013 سے ادارے میں اقلیتی لسانی گروہوں کی بھرتی میں واضح کمی بھی دیکھنے میں آئی ہے، جس کے باعث اقلیتوں میں تحفظات بڑھ رہے تھے۔ اس کے علاوہ لندن پولیس کے خلاف اقلیتی گروہوں پر تشدد اور ناروا سلوک کی شکایات میں بھی اضافہ ہو رہا تھا۔ مختلف تحاقیق کے مطابق پولیس سیاہ فام شہریوں کو تلاشی کے لیے سفید فام کی نسبت 6 گناء زیادہ روکتی ہے، جبکہ ایشیائی افراد پر نسلی بنیادوں پر زیادہ نظر رکھی جاتی ہے، اور انکی جاسوسی بھی نسلی بنیادوں پر کی جاتی ہے۔

دوست و احباب کو تجویز کریں

تبصرہ کریں

Contact Us