ہفتہ, April 9 Live
Shadow
سرخیاں
افغانستان میں امریکی فوج کی جانب سے تشدد کی تربیت کے لیے بلوچی قیدی کو استعمال کرنے کا انکشافہندوستانی میزائل کا مبینہ غلطی سے پاکستانی حدود میں گرنے کا واقعہ: امریکہ کی طرف سے متعصب جبکہ چین کی جانب سے نصیحت آمیز ردعملمیٹا آسٹریلوی سیاستدانوں کو سائبر حملوں اور جھوٹی خبروں سے بچنے کی تربیت دے گییوکرین: مغربی ممالک سے آئے 180 سے زائد جنگجو ہوائی حملے میں ہلاک، روس کی مغربی ممالک کو تنبیہ، سب نشانے پر ہیں، چُن چُن کر ماریں گےاسرائیل پر تاریخ کا بڑا سائبر حملہ: وزیراعظم، وزارت داخلہ اور وزارت صیہونی بہبود کی ویب سائٹیں ہیک اور تلفروس اور یوکرین کے مابین جلد امن معاہدہ طے پا جائے گا: روسی مذاکرات کاریوکرینی مہاجرین کی تعداد 50 لاکھ سے بڑھ گئی: اقوام متحدہفیس بک اور انسٹاگرام کی شدید متعصب پالیسی کا اعلان: روسی صدر اور فوج کیخلاف نفرت اور موت کے پیغامات شائع کرنے کی اجازت، نتیجتاً مغربی ممالک میں آرتھوڈاکس کلیساؤں اور روسی کاروباروں پر حملوں کی خبریںترکی کا بھی روس کے ساتھ مقامی پیسے میں تجارت کرنے کا اعلانمغرب کے دوہرے معیار: دنیا پر روس سے تجارت پر پابندیاں، برطانیہ سمیت بیشتر مغربی ممالک روس سے گیس و تیل کی خریداری جاری رکھیں گے

ساٹھ٪ برطانوی شہریوں کا وباء سے نمٹنے کے حوالے سے حکومت پر بداعتمادی کا اظہار، حکومت کو ملک کی جگ ہنسائی کا باعث قرار دے دیا

برطانیہ میں کیے ایک نئے سروے کے مطابق شہریوں نے کورونا وباء سے نمٹنے میں حکومت کو مکمل طور پر ناکام قرار دیا ہے اور حکومت پر بداعتمادی کا اظہار کیا ہے۔ شہریوں کے مطابق حکومت دوسری لہر سے نمٹنے کی تیاری کرنے میں ناکام رہی ہے۔

تحقیق دو معروف اداروں کی جانب سے کی گئی ہے جس میں 16 سے 75 سالہ افراد سے نومبر 20 سے 24 کے درمیان گفتگو کی گئی، 2244 افراد کے نمونے سے کیے گئے سروے کے مطابق57 فیصد افراد حکومت پر اعتماد نہیں کرتے، 64 فیصد کے خیال میں حکومت کورونا وباء کی دوسری لہر کو روکنے میں مکمل طور پر ناکام رہی۔

تحقیق کے مطابق حکومت پر بداعتمادی کا اظہار کرنے والوں کی تعداد میں 8 ماہ کے دوران دو گنا کا اضافہ ہوا ہے۔

رپورٹ کے مطابق آٹھ ماہ قبل دس میں سے سات افراد حکومت پر کسی حد تک اعتماد کا اظہار کر رہےتھے لیکن اب دس میں سے 6 افراد بد اعتمادی ہیں۔ لوگوں کے مطابق حکومتی رویہ تذبذب کا شکار ہے اور اس میں تسلسل کی بھی کمی ہے، 51 فیصد برطانوی شہریوں کے مطابق حکومتی رویہ ملک کے لیے بدنامی کا باعث بنا ہوا ہے۔

واضح رہے کہ بورس جانسن کی حکومت کو قومی سیاسی جماعتوں اور سماجی حلقوں کی جانب سے بھی وباء کو سنبھالنے کے حوالے سے شدید تنقید کا سامنا ہے، ملکی معیشت کی زبوں حالی بھی برطانوی حکومت کے لیے حالات کو مشکل بنا رہی ہے۔

برطانوی حکومت کی آخری امید اب ویکسین سے وابستہ ہے، جسے 8 دسمبر سے شروع کیا جا رہا ہے، ادویات ساز کمپنی کا کہنا ہے کہ رواں ہفتے آٹھ لاکھ ٹیکے مہیا کر دیے جائیں گے۔

سیکرٹری صحت نے ویکسین کی اچانک اور بڑی مقدار میں ترسیل کو انڈوں کی ترسیل سے شبیہ دیتے ہوئے اسے مشکل مرحلہ قرار دیا ہے۔

دوست و احباب کو تجویز کریں

تبصرہ کریں

Contact Us