Shadow
سرخیاں
بحرانی صورتحال: مغربی رہنما اپنے عوام سے مزید قربانیاں طلب کر رہے ہیں۔ایران جنگ ‘امریکی سلطنت کا خاتمہ’ ہے – ٹکر کارلسنبرطانوی شاہی بحریہ میں نشے اور جنسی زیادتیوں کے واقعات کا انکشاف، ترجمان کا تبصرے سے انکار، تحقیقات کی یقین دہانیتیونسی شہری رضا بن صالح الیزیدی کسی مقدمے کے بغیر 24 برس بعد گوانتانوموبے جیل سے آزادمغربی طرز کی ترقی اور لبرل نظریے نے دنیا کو افراتفری، جنگوں اور بےامنی کے سوا کچھ نہیں دیا، رواں سال دنیا سے اس نظریے کا خاتمہ ہو جائے گا: ہنگری وزیراعظمامریکی جامعات میں صیہونی مظالم کے خلاف مظاہروں میں تیزی، سینکڑوں طلبہ، طالبات و پروفیسران جیل میں بندپولینڈ: یوکرینی گندم کی درآمد پر کسانوں کا احتجاج، سرحد بند کر دیخود کشی کے لیے آن لائن سہولت، بین الاقوامی نیٹ ورک ملوث، صرف برطانیہ میں 130 افراد کی موت، چشم کشا انکشافاتپوپ فرانسس کی یک صنف سماج کے نظریہ پر سخت تنقید، دور جدید کا بدترین نظریہ قرار دے دیاصدر ایردوعان کا اقوام متحدہ جنرل اسمبلی میں رنگ برنگے بینروں پر اعتراض، ہم جنس پرستی سے مشابہہ قرار دے دیا، معاملہ سیکرٹری جنرل کے سامنے اٹھانے کا عندیا

جرمنی: یہودی عبادتگاہ پر حملہ کرنے والے کو عمر قید کی سزا

جرمنی میں یہودی عبادتگاہ سینیگاگ پر حملے میں دو افراد کو ہلاک اور متعدد کو زخمی کرنے والے کو نسل پرست دہشت گرد کو عمر قید کی سزا سنا دی گئی ہے۔ 28 سالہ حملہ آور نے 2019 میں ہالے نامی شہر میں ایک سینیگاگ پر حملے میں ایک خاتون سمیت دو افراد کو ہلاک کر دیا تھا۔

پولیس کے مطابق حملہ آور کا تعلق نسل پرست گروپ سے ہے اور وہ سینیگاگ میں داخل ہو کر یہودیوں کو نشانہ بنانا چاہتا تھا، اطلاعات کے مطابق اس وقت سینیگاگ میں 52 افراد ایک مذہبی تہوار کے دوران عبادت میں مصروف تھے۔ پولیس کی تحقیقات میں مزید سامنے آیا ہے کہ داخلے میں ناکامی پر حملہ آور نے داخلی دروازے پر ایک بم بھی نصب کیا تھا جو پھٹ نہ سکا اور اس سے کوئی جانی نقصان نہ ہوا۔

مقامی میڈیا کے مطابق حملہ آور کا عدالت میں رویہ انتہائی سخت تھا اور اسے اپنے کیے پر کوئی پچھتاوا نہ تھا۔ اس نے اپنے بیان میں بھی یہودیوں کو جرمنی کا سب سے بڑا دشمن قرار دیا اور یہودیوں کے ہولوکاسٹ کی تردید بھی کی، یاد رہے کہ جرمنی کے قانون کے مطابق ہولوکاسٹ کی تردید ایک قابل سزا جرم ہے۔

پولیس کے مطابق حملہ آور سماجی میڈیا پر بھی نسل پرستی کی ترویج کرتا رہتا تھا اور یہودیوں کو دنیا کے تمام مسائل کی جڑ قرار دیتا تھا۔

واضح رہے کہ حملے میں ناکامی کے بعد حملہ آور موقع واردات سے فرار ہو گیا تھا اور پولیس اسکا 80 کلومیٹر تک پیچھا کرتی رہی، اور بالآخر ہیلی کاپٹر پولیس کی مدد سے اسے گرفتار کرنے میں کامیاب رہی۔

وفاقی حکومت نے مقدمے میں دہشت گردی کی دفعات لگائی تھیں، اور حملے کو دوسری عالمی جنگ کے بعد یہودیوں پر ہوا سب سے بڑا حملہ قرار دیا تھا۔

دوست و احباب کو تجویز کریں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

10 + fifteen =

Contact Us