جرمنی میں یہودی عبادتگاہ سینیگاگ پر حملے میں دو افراد کو ہلاک اور متعدد کو زخمی کرنے والے کو نسل پرست دہشت گرد کو عمر قید کی سزا سنا دی گئی ہے۔ 28 سالہ حملہ آور نے 2019 میں ہالے نامی شہر میں ایک سینیگاگ پر حملے میں ایک خاتون سمیت دو افراد کو ہلاک کر دیا تھا۔
پولیس کے مطابق حملہ آور کا تعلق نسل پرست گروپ سے ہے اور وہ سینیگاگ میں داخل ہو کر یہودیوں کو نشانہ بنانا چاہتا تھا، اطلاعات کے مطابق اس وقت سینیگاگ میں 52 افراد ایک مذہبی تہوار کے دوران عبادت میں مصروف تھے۔ پولیس کی تحقیقات میں مزید سامنے آیا ہے کہ داخلے میں ناکامی پر حملہ آور نے داخلی دروازے پر ایک بم بھی نصب کیا تھا جو پھٹ نہ سکا اور اس سے کوئی جانی نقصان نہ ہوا۔
مقامی میڈیا کے مطابق حملہ آور کا عدالت میں رویہ انتہائی سخت تھا اور اسے اپنے کیے پر کوئی پچھتاوا نہ تھا۔ اس نے اپنے بیان میں بھی یہودیوں کو جرمنی کا سب سے بڑا دشمن قرار دیا اور یہودیوں کے ہولوکاسٹ کی تردید بھی کی، یاد رہے کہ جرمنی کے قانون کے مطابق ہولوکاسٹ کی تردید ایک قابل سزا جرم ہے۔
پولیس کے مطابق حملہ آور سماجی میڈیا پر بھی نسل پرستی کی ترویج کرتا رہتا تھا اور یہودیوں کو دنیا کے تمام مسائل کی جڑ قرار دیتا تھا۔
واضح رہے کہ حملے میں ناکامی کے بعد حملہ آور موقع واردات سے فرار ہو گیا تھا اور پولیس اسکا 80 کلومیٹر تک پیچھا کرتی رہی، اور بالآخر ہیلی کاپٹر پولیس کی مدد سے اسے گرفتار کرنے میں کامیاب رہی۔
وفاقی حکومت نے مقدمے میں دہشت گردی کی دفعات لگائی تھیں، اور حملے کو دوسری عالمی جنگ کے بعد یہودیوں پر ہوا سب سے بڑا حملہ قرار دیا تھا۔
