ہفتہ, جنوری 15 Live
Shadow
سرخیاں
قازقستان ہنگامے: مشترکہ تحفظ تنظیم کے سربراہ کا صورتحال پر قابو کا اعلان، امن منصوبے کی تفصیلات پیش کر دیںبرطانوی پارلیمنٹ میں منشیات کا استعمال: اسپیکر کا سونگھنے والے کتے بھرتی کرنے کا عندیاامریکی سی آئی اے اہلکاروں کے ایک بار پھر کم عمر بچوں بچیوں کے ساتھ جنسی جرائم میں ملوث ہونے کا انکشافامریکہ کا مشرقی افریقہ میں تاریخ کے سب سے بڑے فوجی آپریشن کا اعلان: 1 ہزار سے زائد مزید کمانڈو تیارروسی صدر کی ثالثی: آزربائیجان اور آرمینیا کے مابین سرحدی جھڑپیں ختم، سرحدی حدود کے تعین پر اتفاق، جنگ سے متاثر آبادی اور دیگر انسانی حقوق کے تحفظ کی بھی یقین دہانینائیجیر: فرانسیسی فوج کی فائرنگ سے 2 شہری شہید، 16 زخمیامریکی فوج میں ہر 4 میں سے 1 عورت اور 5 میں سے 1 مرد جنسی زیادتی کا نشانہ بنتا ہے، بیشتر خود کشی کر لیتے، کورٹ مارشل کے خوف سے کوئی آواز نہیں اٹھاتا: سابقہ اہلکارروس کا غیر ملکی سماجی میڈیا کمپنیوں پر ملک میں کاروباری اندراج کے لیے دباؤ جاری: رواں سال کے آخر تک عمل نہ ہونے پر پابندی لگانے کا عندیاامریکہ ہائپر سونک ٹیکنالوجی میں چین اور روس سے بہت پیچھے ہے: امریکی جنرل تھامپسنامریکی تفریحی میڈیا صنعت کس عقیدے، نظریے اور مقصد کے تحت کام کرتی ہے؟

پاکستان ازبکستان نامہ – عباس خان تاشقند

کووڈ-19 خطرہ ہے۔ اس نے دنیا بھر میں حرکت میں برکت والے معاملے کو منجمد کر دیا ہے۔ دنیا میں ہر
قسم کی حرکت روک دی گئی ہے۔ وباء کے ہر ملک اور قوم پر منفی اثرات مرتب ہوئے ہیں۔ مگر اس ساری صورتحال کے باوجود پاکستان اور ازبکستان کے تعلقات بتدریج آگے بڑھ رہے ہیں۔ ازبکستان سے دو اعلیٰ سطحی وفود نے پاکستان کا دورہ کیا ہے۔ وفود نے کابل کا دورہ بھی کیا۔ جس کا مقصد ان امکانات سے فائدہ اٹھانا تھا جو گوادر پورٹ کے عمل میں آنے کے نتیجے میں پیدا ہورہے ہیں۔ اس کے علاوہ ان معاملات پر بھی غور کیا جا رہا ہے کہ پاکستان کو ریلوے کے ذریعےمزارشریف سے ملا دیا جائے۔ مزار شریف سے تاشقند بذریعہ ریلوے پہلے ہی جُڑچکے ہیں۔ منصوبہ ازبکستان اور ایشین ڈیویلپمنٹ بنک نے مل کر مکمل کیا ہے۔

پاکستان یلوے بھی مزار شریف منصوبے میں دلچسپی رکھتی ہے، تاہم منصوبہ روائیتی غیر سنجیدگی اور سست روی کا شکار ہے۔ ہمارے ایک وزیر نے کابل میں کھڑے ہو کر یہ بیان تو دے دیا کہ جلد افغانستان اور پاکستان کو ریلوے کے جال سے جوڑ دیں گے تاہم لگتا ہے کہ موصوف نے صرف بیان بازی سے کام لیا۔ وہ نہ تو منصوبے کو سمجھتے ہیں اور نہ ہی اسکی ضروریات سے آگاہ ہیں۔ ریلوے کے پاس ریلوے لائن بچھانے کا کوئی تفصیلی منصوبہ نہیں ہے، اس کے علاوہ پاکستان، افغانستان، ازبکستان، پاکستان، ایران اور ترکی میں ریلوے لائن کی چوڑائی بھی مختلف ہے، اور ایک لائن سےدوسری لائن پر گاڑی منتقل کرنا یا اسکا منصوبہ سستا سودا نہیں ہے۔
ادھر اس دوران تاشقند میں پاکستان کے نئے قونصلر خرم علی آئے ہیں، جنہوں نے آتے ہی پاکستانی کاروباری حضرات سے فرداً فرداً ملاقاتیں کی ہیں۔ مجھے بھی سابقہ کنٹری مینیجر جناب ملک محمد اشرف صاحب کے ہمراہ قونصلر صاحب سے ملاقات کا موقع ملا اور پاک ازبک تعلقات پر اپنے خیالات کا اظہار کرنے کا موقع ملا۔ چند ہفتے قبل پاکستان کے ازبکستان کے لیے نئے سفیر جناب سید اسد علی گیلانی بھی تشریف لائے ہیں۔ اور موقع ملنے پر میں نے انہیں بھی پاک ازبک معاشی و ثقافتی تعلقات کو بڑھانے کے لیے اپنی تجاویز پیش
کیں۔ سفیر صاحب نے کچھ مقامی ماہرین کے ساتھ الگ اجلاس بھی منعقد کیا اور ازبکستان کے کارخانوں میں کام کرنے والے پاکستانی مزدوروں کے مسائل جانے اور انکے حل کے لیے رائے لی۔ ایسے اجلاس تاشقند میں مقیم پاکستانیوں کےدرمیان بہتر تعلقات قائم کرنے میں اہم کردار ادا کریں گے۔

نئے سفارتی عملے نے ازبکستان کے تاریخی عجائب گھروں کا دورہ بھی کیا اور وہاں پاکستانی ثقافت کے لیے خصوصی جگہ رکھنے کی تجویز پیش کی۔ یہ ایک اچھی اور قابل عمل تجویز ہے۔ اس کے علاوہ شرقیاتی انسٹیٹیوٹ آف تاشقند میں پاکستان ہال بھی قائم کیا گیا ہے۔ جہاں پاکستان کے بارے میں مختلف کتابیں اور معلومات پر مبنی جریدے رکھے گئے ہیں۔ سفیر صاحب نے خود بھی ادارے کے سربراہ سے ملاقات کی اور اس کے مقاصد کے بارے میں جانا۔

سفارتخانے کے وفد نے ازبکستان کے ماہر شرقیات اور معروف اردودان جناب طاش مرزا سے ملاقات کی اور اردو کے نشیب و فراز پر گفتگو کی۔ اس سے قبل محترمہ منیرہ خانم کے ساتھ بھی راقم کی موجودگی میں پاک ازبیک تعلقات کو ترقی دینے کے لیے سفیر صاحب نے ملاقات کی اور انکی رائے کو زیر قلم کیا۔ منیرہ خانم بھی ازبکستان میں اردو کی معلمہ رہی ہیں۔
ادھر پاکستان میں ازبکستان کے نئے سفیر آئیبک عارف عثمان عارف بھی اسلام آباد پہنچ گئے
ہیں۔ موصوف اس سے قبل بھی پانچ سال پاکستان میں کام کر چکے ہیں۔ وہ بہت سی زبانوں میں مہارت رکھتے ہیں جن میں اردو اور پشتو بھی شامل ہیں۔ راقم خوشنصیب ہے کہ ان کی والدہ چمن آپا کے ساتھ ریڈیو تاشقند میں اردو شعبے میں کام کر چکی ہیں۔ چمن آپا بھی ماہر اردو دان تھیں۔
ان ساری مصروفیات کا مطلب یہ ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان سفارتی تعلقات گرم جوشی سے آگے بڑھ رہے ہیں۔ رواں ہفتے کے ازبک نامے میں قارئین کو ایک خبر بھی دیتا چلوں۔ کچھ دن قبل ازبیک
وزیر خارجہ جناب عبدلعزیز کامیلوف نے ازبک صدر شوکت مرزائف کے مشیر برائے معاشی ترقی سما چکرابرتی سے ملاقات کی ہے اور وسط ایشیائی ریاستوں اور افغانستان پاکستان کے ساتھ معاشی تعلقات کو بڑھانے پر اتفاق کیا۔ دونوں اعلیٰ عہدے داروں نے افغان امن عمل اور خطے میں استحکام کے لیے ازبکستان کے کردار پر علاقائی طاقتوں کو اعتماد میں لینے کی کوششوں کو شروع کرنے کے ارادے کا اظہار بھی کیا۔

واضح رہے کہ ازبک صدر کے مشیر معاشیات 1959 میں بھارت مغربی بنگال کے شہر جلپئ گوری میں پیدا ہوئے۔ وہ ہندوستان نژاد برطانوی ہیں، اور اس سے پہلے 2020 تک ای بی آر ڈی (یورپی بینک) میں بحثیت صدر کام کرتے رہے ہیں۔ چکرابرتی آکسفورڈ سے فارغ التحصٰل ہیں اور قزاقستان میں اصلاحات کونسل کے نائب سربراہ بھی رہ چکے ہیں۔

دوست و احباب کو تجویز کریں

تبصرہ کریں

Contact Us