ہفتہ, April 9 Live
Shadow
سرخیاں
افغانستان میں امریکی فوج کی جانب سے تشدد کی تربیت کے لیے بلوچی قیدی کو استعمال کرنے کا انکشافہندوستانی میزائل کا مبینہ غلطی سے پاکستانی حدود میں گرنے کا واقعہ: امریکہ کی طرف سے متعصب جبکہ چین کی جانب سے نصیحت آمیز ردعملمیٹا آسٹریلوی سیاستدانوں کو سائبر حملوں اور جھوٹی خبروں سے بچنے کی تربیت دے گییوکرین: مغربی ممالک سے آئے 180 سے زائد جنگجو ہوائی حملے میں ہلاک، روس کی مغربی ممالک کو تنبیہ، سب نشانے پر ہیں، چُن چُن کر ماریں گےاسرائیل پر تاریخ کا بڑا سائبر حملہ: وزیراعظم، وزارت داخلہ اور وزارت صیہونی بہبود کی ویب سائٹیں ہیک اور تلفروس اور یوکرین کے مابین جلد امن معاہدہ طے پا جائے گا: روسی مذاکرات کاریوکرینی مہاجرین کی تعداد 50 لاکھ سے بڑھ گئی: اقوام متحدہفیس بک اور انسٹاگرام کی شدید متعصب پالیسی کا اعلان: روسی صدر اور فوج کیخلاف نفرت اور موت کے پیغامات شائع کرنے کی اجازت، نتیجتاً مغربی ممالک میں آرتھوڈاکس کلیساؤں اور روسی کاروباروں پر حملوں کی خبریںترکی کا بھی روس کے ساتھ مقامی پیسے میں تجارت کرنے کا اعلانمغرب کے دوہرے معیار: دنیا پر روس سے تجارت پر پابندیاں، برطانیہ سمیت بیشتر مغربی ممالک روس سے گیس و تیل کی خریداری جاری رکھیں گے

ڈونلڈ ٹرمپ غیر متوقع طبیعت کے مالک ہیں، انہیں حساس معاملات کی پیش رفت سے آگاہی دینا خطرناک ہو گا: صدر جوبائیڈن

امریکی صدر جوبائیڈن نے سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر شبہے کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کو دیگر سابق صدور جیسی مراعات نہیں دی جانی چاہیے۔ صدر جوبائیڈن کا کہنا تھا کہ ڈونلڈ ٹرمپ انتہائی غیر متوقع طبیعت کے مالک ہیں، ان کو امریکی صدور کو حاصل حساس معلومات تک رسائی ملک کے لیے خطرناک ہے۔

سی بی ایس کے شو میں صدر بائیڈن سے پوچھا گیا کہ کیا حکومت سابقہ صدر کو خفیہ معلومات کی رسائی دے گی، جس پر صدر نے کہا کہ میرا خیال ہے کہ نہیں دینی چاہیے، انہیں ایسی سہولت دینے کی ضرورت ہی نہیں ہے۔ وہ جس شخصیت کے مالک ہیں کسی دن کسی کے سامنے حساس معلومات اگل دیں گے۔ جوبائیڈن نے کیپیٹل ہل پر دھاوے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ایسے شخص کو ملک کی حساس معلومات تک رسائی کیسے دی جا سکتی ہے، جس کے حمائتی سرکاری عمارتوں ہر حملہ کریں۔

نیویارک ٹائمز نے اپنی خصوصی خبر میں کہا ہے کہ امریکی تاریخ میں ایسا پہلی بار ہو گا کہ کسی سابق صدر کو حساس معاملات کی پیش رفت سے آگاہ نہ کیا جائے، اور معاملات پر انکی رائے نہ لی جائے۔ امریکی سیاست میں حاضر صدر کے لیے سابہ صدور کی رائے کو کافی مؤثر مانا جاتا ہے۔ یاد رہے کہ جمی کارٹر، بل کلنٹن، ڈبلیو بش اور باراک اوباما کا شمار ان صدور میں ہوتا ہے جنہیں یومیہ بنیاد پر حساس معاملات سے آگاہ کیا جاتا تھا اور انکی رائے سے حاضر صدور کو بھی آگاہ کیا جاتا تھا۔

اس کے علاوہ یاد رہے کہ سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ پہلے صدر ہیں جنہیں دوہری بار مواخذے کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

دوست و احباب کو تجویز کریں

تبصرہ کریں

Contact Us