ہفتہ, April 9 Live
Shadow
سرخیاں
افغانستان میں امریکی فوج کی جانب سے تشدد کی تربیت کے لیے بلوچی قیدی کو استعمال کرنے کا انکشافہندوستانی میزائل کا مبینہ غلطی سے پاکستانی حدود میں گرنے کا واقعہ: امریکہ کی طرف سے متعصب جبکہ چین کی جانب سے نصیحت آمیز ردعملمیٹا آسٹریلوی سیاستدانوں کو سائبر حملوں اور جھوٹی خبروں سے بچنے کی تربیت دے گییوکرین: مغربی ممالک سے آئے 180 سے زائد جنگجو ہوائی حملے میں ہلاک، روس کی مغربی ممالک کو تنبیہ، سب نشانے پر ہیں، چُن چُن کر ماریں گےاسرائیل پر تاریخ کا بڑا سائبر حملہ: وزیراعظم، وزارت داخلہ اور وزارت صیہونی بہبود کی ویب سائٹیں ہیک اور تلفروس اور یوکرین کے مابین جلد امن معاہدہ طے پا جائے گا: روسی مذاکرات کاریوکرینی مہاجرین کی تعداد 50 لاکھ سے بڑھ گئی: اقوام متحدہفیس بک اور انسٹاگرام کی شدید متعصب پالیسی کا اعلان: روسی صدر اور فوج کیخلاف نفرت اور موت کے پیغامات شائع کرنے کی اجازت، نتیجتاً مغربی ممالک میں آرتھوڈاکس کلیساؤں اور روسی کاروباروں پر حملوں کی خبریںترکی کا بھی روس کے ساتھ مقامی پیسے میں تجارت کرنے کا اعلانمغرب کے دوہرے معیار: دنیا پر روس سے تجارت پر پابندیاں، برطانیہ سمیت بیشتر مغربی ممالک روس سے گیس و تیل کی خریداری جاری رکھیں گے

یہ 120 سال پرانا چین نہیں، تم سب مل کر بھی چینی قوت کو برداشت نہیں کر سکو گے: چین کی اپنے خلاف مغربی ممالک کے نئے اتحاد کو سیدھی دھمکی

چین نے اپنے خلاف بننے والے نئے 5 ملکی اتحاد کو سیدھے دھمکی دے دی ہے، آسٹریلیا، نیوزی لینڈ، کینیڈا، برطانیہ اور امریکہ کے 5 ملکی نئے اتحاد کو مخاطب کرتے ہوئے وزارت خارجہ کی ترجمان ہُوا چُن ینگ کا کہنا تھا کہ 5 آنکھی اتحاد چین کو بادشاہی سلطنت نہ سمجھے جس کے خلاف وہ انسانی حقوق کا ڈھنڈورا پیٹ سکتے ہیں۔

ہُوا کا کہنا تھا کہ مغربی ممالک چین کے اندرونی معاملات میں مداخلت بند کریں، اور 21ویں صدی میں آئیں، آج کا چین قنگ سلطنت نہیں ہے۔ مغربی ممالک 19ویں صدی کی طرز پر چین پر قبضہ نہیں کر سکتے، آج کے چینیوں کو 120 سال پہلے کی طرح اکسایا نہیں جا سکتا، لیکن اگر اشتعال دلایا گیا تو سب دیکھ لیں گے کہ آج کے چین کو سنبھالنا ناممکن ہے۔

ہُوا کا مزید کہنا تھا کہ اقوام متحدہ میں 190 سے زائد ممالک ہیں، پانچ ممالک اس کے نمائندہ بننے سے گریز کریں، تمام ممالک کو باہمی اتفاق سے رہنا چاہیے۔

واضح رہے کہ چینی وزارت خارجہ کا بیان مغربی ممالک کی جانب سے نئی پراپیگنڈا مہم اور پابنیوں کے اعلان کے بعد سامنے آیا ہے۔

چین کا کہنا ہے کہ اس نے ہانگ کانگ یا سنکیانگ میں انسانی حقوق کی کوئی خلاف ورزی نہیں کی ہے، مغربی ممالک انتظامی معاملات کو سیاسی رنگ نہ دیں، اور اندرونی معاملات میں مداخلت کا سلسلہ بند کریں۔

دوست و احباب کو تجویز کریں

تبصرہ کریں

Contact Us