Shadow
سرخیاں
بحرانی صورتحال: مغربی رہنما اپنے عوام سے مزید قربانیاں طلب کر رہے ہیں۔ایران جنگ ‘امریکی سلطنت کا خاتمہ’ ہے – ٹکر کارلسنبرطانوی شاہی بحریہ میں نشے اور جنسی زیادتیوں کے واقعات کا انکشاف، ترجمان کا تبصرے سے انکار، تحقیقات کی یقین دہانیتیونسی شہری رضا بن صالح الیزیدی کسی مقدمے کے بغیر 24 برس بعد گوانتانوموبے جیل سے آزادمغربی طرز کی ترقی اور لبرل نظریے نے دنیا کو افراتفری، جنگوں اور بےامنی کے سوا کچھ نہیں دیا، رواں سال دنیا سے اس نظریے کا خاتمہ ہو جائے گا: ہنگری وزیراعظمامریکی جامعات میں صیہونی مظالم کے خلاف مظاہروں میں تیزی، سینکڑوں طلبہ، طالبات و پروفیسران جیل میں بندپولینڈ: یوکرینی گندم کی درآمد پر کسانوں کا احتجاج، سرحد بند کر دیخود کشی کے لیے آن لائن سہولت، بین الاقوامی نیٹ ورک ملوث، صرف برطانیہ میں 130 افراد کی موت، چشم کشا انکشافاتپوپ فرانسس کی یک صنف سماج کے نظریہ پر سخت تنقید، دور جدید کا بدترین نظریہ قرار دے دیاصدر ایردوعان کا اقوام متحدہ جنرل اسمبلی میں رنگ برنگے بینروں پر اعتراض، ہم جنس پرستی سے مشابہہ قرار دے دیا، معاملہ سیکرٹری جنرل کے سامنے اٹھانے کا عندیا

ہندوستان کا مقبوضہ کشمیر میں دریائے چناب پر دنیا کے بلند ترین پُل کا منصوبہ تکمیل کے قریب: بنیادی ڈھانچہ مکمل

ہندوستان نے دنیا کے بلند ترین ریلوے پل چناب ریلوے پل کا بنیادی سٹیل ڈھانچہ مکمل کر لیا ہے۔ وزارت ریلوے کے مطابق پل 2022 تک مکمل کر کے استعمال کے لیے کھول دیا جائے گا۔

وزارت ریلوے نے سرکاری بیان میں کہا ہے کہ دریائے چناب پر سٹیل ڈھانچہ کھڑا کرنا سب سے زیادہ مشکل کام تھا، آئندہ سال تک پل مکمل ہو کر کترا سے بنیہال کا 111 کلومیٹر لمبا سفر انتہائی مختصر رہ جائے گا۔ واضح رہے کہ ابھی دونوں شہروں کے درمیان سفر کے لیے 12 گھنٹے سے زیادہ وقت درکار ہوتا ہے، جو اس پل کے مکمل ہونے سے 6 گھنٹے تک سکڑ جائے گا۔ یاد رہے کہ منصوبے کی تکمیل سے ہندوستان کی مقبوضہ کشمیر میں رسد کی رفتار مزید بڑھ جائے گی۔

انجینئروں نے سٹیل کا آخری 5 اعشاریہ 6 میٹر لمبا ٹکرا کل نصب کیا تھا، جس سے چناب کے دونوں کناروں کو آپس میں ملا دیا گیا۔ پل کی دریا سے اونچائی 359 میٹر بتائی جا رہی ہے، جبکہ اسکی لمبائی سوا کلومیٹر سے کچھ زائد 1315 میٹر ہے۔

منصوبے پر کام کرنے والے انجینئروں کا دعویٰ ہے کہ پل 266کلومیٹر فی میل کی رفتار سے چلنے والی ہواؤں اور 8 ریکٹر سکیل کی شدت کے زلزلے کو برداشت کر سکے گا اور یہ 120 سال تک قابل استعمال ہو گا۔

واضح رہے کہ کترا بنیہال سڑک منصوبہ سن 2000 میں شروع کیا گیا تھا جس میں کئی پل اور سرنگیں شامل ہیں۔

دوست و احباب کو تجویز کریں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

twelve − seven =

Contact Us